ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 244 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 244

اگر اس زمانہ میں کوئی نبی ہوتا تو یہ لڑکا نبوت کے قابل ہے۔“ انہوں نے یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر محبت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہی۔تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ (53) حضرت مسیح موعود کے مشاغل عام بچوں سے مختلف تھے۔ان کے والد صاحب کو فکر رہتا کہ یہ ملاں اور۔مسیتر بیٹا دنیا کے جھمیلوں سے کیسے نبٹے گاانہیں دنیا داری سکھانے کی کوشش کرتے تو جواب ملتا: ”ابا بھلا بتاؤ تو سہی کہ جو افسروں کے افسر اور مال کا مالک احکم الحاکمین کا ملازم ہو اور اپنے رب العالمین کا فرماں بردار ہو اس کو کسی ملازمت کی کیا پرواہ ہے“ تاریخ احمدیت جلد 1 صفحہ 52) آپ کے والد صاحب اس نتیجے پر پہنچے ہے تو یہ نیک صالح مگر اب زمانہ ایسوں کا نہیں چالاک آدمیوں کا ہے پھر آبدیدہ ہو کر کہتے کہ ”جو حال پاکیزہ غلام احمد کا ہے وہ ہمارا کہاں یہ شخص زمینی نہیں آسمانی (ہے) یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے۔“ ( تذكرة المهدی حصہ دوم صفحہ 302) آپ تنہا رہ کر مطالعہ کرنا پسند فرماتے زیادہ ملنا جلنا نہیں رکھتے تھے خود فرماتے ہیں: ”یہ وہ زمانہ تھا جس میں مجھے کوئی بھی نہیں جانتا تھا نہ کوئی موافق تھا نہ مخالف۔کیونکہ میں اُس زمانہ میں کچھ بھی چیز نہ تھا اور ایک احد من الناس اور زاویہ گمنامی میں پوشیدہ تھا (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 460) میں تھا غریب و بے کس و گمنام بے ہنر کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر اللہ تعالی کی اپنی تقسیم اوقات ہوتی ہے۔اس نے آپ کے طلوع سے پہلے افق پر روشنی پھیلنے کا وقت 19ویں صدی کا آخری ربع مقرر کیا تھا۔اخبارات میں آپ کے رشحات قلم جگہ پانے لگے۔مسلم امہ چونک کر بیدار ہوئی سب محسوس کرنے لگے کہ باغ احمد میں کوئی گل رعنا کھلا ہے براہین احمدیہ کے ذریعے علم کی خوشبو ہر طرف پھیلنے لگی علم دوست، مذہبی رجحان رکھنے والے حیرت اور خوشی سے سرشار آپ سے رابطے 244