ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 225
قسط 32 دعاؤں میں گداز اور گریہ و زاری ہر کہ عارف تراست ترساں تر حضرت محمد مصطفی ملی لی نام کا دعاؤں میں گداز اور گریہ و زاری کا اپنا ہی رنگ تھا۔آپ اپنے رب کے سب سے زیادہ عاشق تھے۔ذکر الہی آپ کی روحانی غذا تھی۔لولاک لما خلقت الافلاک کا تاج سر پر تھا مگر پیشانی شکر گزاری میں خاک پر تھی رب کے محبوب تھے مگر ناز نہیں تھا عجز و نیاز تھا۔آپ کی رفیق زندگی حضرت عائشہ فرماتی ہیں كَانَ يَذْكُرُ الله عَلى كُلِ حَالِ کہ حضور ہر وقت اللہ تعالیٰ کو یاد رکھتے تھے ہر لمحہ ہر ساعت آپ یاد خدا میں ڈوبے رہتے تھے۔عبد اور معبود کے درمیان دعا خاموشی اور رازداری سے کی جاتی ہے۔لیکن جب دل گداز ہو، درد حد سے بڑھ جائے تو آنکھ سے آنسو گرتے ہیں جو دوسروں کو نظر آجاتے ہیں۔سسکیاں بھی بے اختیار ہو جاتی ہیں۔جس سے داعی کی کیفیت کھل جاتی ہے۔ایسی ہی کچھ کیفیات درد و گداز اور انداز طلب چاہنے والوں کی نظر اور سماعت میں آیا اور انہوں نے روایت کرکے ہمارے لئے محفوظ کر لیا۔جنگ بدر معرکہ اسلام و کفر تھا ظاہری طاقت کا کوئی موازنہ نہ تھا۔مگر خدائے عظیم و برتر نے فتح کی بشارتیں دی تھیں صادق الوعد خدا پر حق الیقین ہونے کے باوجود ایک دل انتہائی عاجزی سے اپنے مالک کے در پر جھکا ہوا تھا۔جب قریش مکہ نے عام حملہ کر دیا۔اس وقت آنحضرت صل ل ل ا م نہایت رفت کی حالت میں خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائے ہوئے دعائیں کر رہے تھے اور نہایت اضطراب کی حالت میں فرماتے تھے کہ : اللهُمَّ إِن أَهْلَكْتَ هَذِهِ الْعِصَابَةَ فَلَنْ تُعْبَدُ فِي الْأَرْضِ ابدااے میرے مالک ! اگر مسلمانوں کی یہ جماعت آج اس میدان میں ہلاک ہو گئی تو دنیا میں تجھے پوجنے والا کوئی نہیں رہے گا۔(بخاری و مسلم) اس وقت آپ اتنے کرب کی حالت میں تھے کہ کبھی آپ سجدہ میں گر جاتے تھے اور کبھی کھڑے ہو کر خدا کو پکارتے تھے اور آپ کی چادر آپ کے کندھوں سے گر گر پڑتی تھی اور حضرت ابو بکر سے اٹھا اٹھا کر آپ پر ڈال دیتے تھے۔حضرت علی کہتے ہیں کہ مجھے لڑتے ہوئے آنحضرت علی ایم کا خیال آتا تھا تو میں آپ کے سائبان کی طرف بھاگا جاتا تھا لیکن جب بھی میں گیا میں نے آپ کو سجدہ میں گڑ گڑاتے ہوئے پایا اور میں نے سنا کہ آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے۔225