ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 135 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 135

وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے اُمیدوار یہ سب رحمان خدا کی عطا تھی۔آپ کو الہام ہوا: كَلَامُ أُفْصِحَتْ مِنْ لَدُنْ رَبِّ كَرِيمٍ یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کی بارش دیکھئے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں: (تذکره صفحه 805) 11 اپریل 1900ء کو عید اضحی کے دن صبح کے وقت مجھے الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کرو تمہیں قوت دی گئی اور نیز یہ الہام ہو ا كلام أُخْصِحَتْ مِنْ لَّدُنْ رَبِّ كَرِیم یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔تب میں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لئے کھڑا ہو گیا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور وہ فصیح تقریر عربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور میں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ بغیر اس کے کہ اول کسی کاغذ میں قلمبند کی جائے کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الہی کے بیان کر سکے۔جس وقت یہ عربی تقریر جس کا نام خطبہ الہامیہ رکھا گیا لو گوں میں سنائی گئی اس وقت حاضرین کی تعداد شاید دوسو کے قریب ہو گی۔سبحان اللہ اس وقت ایک غیبی چشمہ کھل رہا تھا۔مجھے معلوم نہیں کہ میں بول رہا تھا یا میری زبان سے کوئی فرشتہ کلام کر رہا تھا کیو نکہ میں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا۔خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلتے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لئے ایک نشان تھا۔چنانچہ تمام فقرات چھپے ہوئے موجود ہیں جن کا نام خطبات الہامیہ ہے۔اس کتاب کے پڑھنے سے معلوم ہو گا کہ کیا کسی انسان کی طاقت میں ہے کہ اتنی لمبی تقریر بغیر سوچے اور فکر کے عربی زبان میں کھڑے ہو کر محض زبانی طور پر فی البدیہہ بیان کر سکے۔یہ ایک علمی معجزہ ہے جو خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتا۔“ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 375 - 376) 135