ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 127
ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام چاند کو قمر نہیں کہہ سکتے اس کا نام تو ہلال ہے اور حدیث میں قمر کا لفظ ہے نہ ہلال کا لفظ۔سو حدیث کے معنی یہ ہیں کہ چاند کو اس پہلی رات میں گرہن لگے گا جو اُس کے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات ہے۔یعنی مہینہ کی تیرھویں رات اور سورج کو درمیان کے دن میں گرہن لگے گا یعنی اٹھائیس تاریخ جو اس کے گرہن کے دنوں میں سے درمیانی دن ہے۔تب یہ نادان مولوی اس صحیح معنی کو سن کر بہت شرمندہ ہوئے اور پھر بڑی جانکاہی سے یہ دوسرا عذر بنایا کہ حدیث کے رجال میں سے ایک راوی اچھا آدمی نہیں ہے تب ان کو کہا گیا کہ جبکہ حدیث کی پیشگوئی پوری ہو گئی تو وہ جرح جس کی بناء شک پر ہے اس یقینی واقعے کے مقابل پر جو حدیث کی صحت پر ایک قوی دلیل ہے کچھ چیز ہی نہیں۔یعنی پیشگوئی کا پورا ہونا یہ گواہی دے رہا ہے کہ یہ صادق کا کلام ہے اور اب یہ کہنا کہ وہ صادق نہیں بلکہ کاذب ہے بدیہیات کے انکار کے حکم میں ہے اور ہمیشہ سے یہی اصول محد ثین کا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا۔پیشگوئی کا اپنے مفہوم کے مطابق ایک مدعی مہدویت کے زمانے میں پوری ہو جانا اس بات پر یقینی گواہی ہے کہ جس کے منہ سے یہ کلمات نکلے تھے اس نے سچ بولا ہے۔لیکن یہ کہنا اس کی چال چلن میں ہمیں کلام ہے۔یہ ایک شکی امر ہے اور کبھی کاذب بھی سچ بولتا ہے ماسوا اس کے یہ پیشگوئی اور طرق سے بھی ثابت ہے اور حنفیوں کے بعض اکابر نے بھی اس کو لکھا ہے تو پھر انکار شرط انصاف نہیں ہے بلکہ سراسر ہٹ دھرمی ہے اور اس دندان شکن جواب کے بعد انہیں یہ کہنا پڑا کہ یہ حدیث تو صحیح ہے اور اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ عنقریب امام موعود ظاہر ہو گا مگر یہ شخص امام موعود نہیں ہے بلکہ وہ اور ہو گا جو بعد میں اس کے عنقریب ظاہر ہو گا۔مگر یہ ان کا جواب بھی بودا اور باطل ثابت ہوا کیو نکہ اگر کوئی اور امام ہوتا تو جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے وہ امام صدی کے سر پر آنا چاہئے تھا مگر صدی سے بھی پندرہ برس گزر گئے اور کوئی امام ان کا ظاہر نہ ہوا۔اب ان لوگوں کی طرف سے آخری جواب یہ ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ان کی کتابیں مت دیکھو۔ان سے ملاپ مت رکھو۔ان کی بات مت سنو کہ ان کی باتیں دلوں میں اثر کرتی ہیں۔لیکن کس قدر عبرت کی جگہ ہے کہ آسمان بھی ان کے مخالف ہو گیا اور زمین کی حالت موجودہ بھی مخالف ہو گئی۔یہ کس قدر ان کی ذلت ہے کہ ایک طرف آسمان ان کے مخالف گواہی دے رہا ہے اور ایک طرف زمین صلیبی غلبے کی وجہ سے گواہی دے رہی ہے۔(ضرورة الامام، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 507 تا 509) جب سے یہ نور ملا نور پیمبر سے ہمیں ذات سے حق کی وجود اپنا ملایا ہم نے 127