ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 125
مجھے خبر دی تھی کہ ایسا نشان ظہور میں آئے گا اور وہ خبر براہین احمدیہ میں درج ہو کر قبل اس کے جو یہ نشان ظاہر ہو لا کھوں آدمیوں میں مشتہر ہو چکی تھی“۔(حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 202) (حوالہ حدیث سنن الدار قطنی کتاب العيدين باب صفة صلاة الخسوف والكسوف و هیت هما نمبر 1777 مطبوعة دار الكتب العلمية بيروت 2003ء) قرآن کریم کی سورۃ القیامہ میں اس نشان کا بیان وَخَسَفَ الْقَمَرُ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ا اور چاند گہنا جائے گا اور سورج اور چاند اکٹھے کئے جائیں گے۔(القیامه: 9-10) پس اے اہل اسلام اور رسول اللہ صلی ال یکم کی پیروی کرنے والو! تمہیں معلوم ہو کہ وہ نشان جس کا قرآن کریم میں تم وعدہ دئے گئے تھے اور رسول اللہ صلی علی کی کم سے جو سید الرسل اور اندھیرے کو روشن کرنے والا ہے تمہیں بشارت ملی تھی یعنی رمضان شریف میں آفتاب اور چاند گرہن ہونا وہ رمضان جس میں قرآن نازل ہوا وہ نشان ہمارے ملک میں بفضل اللہ تعالیٰ ظاہر ہو گیا اور چاند اور سورج کا گرہن ہوا اور دو نشان ظاہر ہوئے پس خدا تعالیٰ کا شکر کرو اور اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے گرو۔اسْمَعُوا صَوْتَ السَّمَاءِ جَاءَ الْمَسِيحَ جَاءَ الْمَسِيحُ نیز بشنو از زمین آمد امام کامگار آسمان بارد نشان الوقت می گوید زمیں این دو شاہد از پئے من نعره زن چوں بیقرار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا۔اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمداً خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مفتری ٹھہراتا ہے تو وہ 125