راکھا — Page 28
درد ناک حالات میں وہ مبتلا ہو چکی ہے اس کا احساس خود ان ممالک کے اہلِ دانش کو ہو رہا ہے اور گاہے بگا ہے اس کا تذکرہ میڈیا میں ہوتا رہتا ہے۔مرد اور عورت کے دونوں کے گھر سے فل ٹائم جاب کرنے کے باعث گھر اور خاندان تباہ ہو رہے ہیں، ان کا امن وسکون اٹھ چکا ہے۔بچے Baby Sitting کے نتیجے میں اخلاقی اور نفسیاتی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔بوڑھے والدین بچوں کے ساتھ رہنے کی بجائے Old People Homes میں رہ کر ذہنی مریض بن چکے ہیں۔Friendship ،شادیوں پر فوقیت حاصل کر چکی ہے۔فیملی سسٹم ٹوٹ چکا ہے۔انفرادیت، اجتماعیت پر غالب آچکی ہے۔بچوں کے پاس والدین کیلئے وقت نہیں ہے کیونکہ اس سے قبل والدین کے پاس بچوں کیلئے وقت نہیں تھا۔اس ساری تباہی و بربادی کے باوجود مغرب پاگلوں کی طرح اسلامی ضابطہ حیات پر اعتراض کرتا چلا جارہا ہے۔شاید وہ یہ چاہتا ہے کہ جس طرح مغربی فیملی تباہ ہو چکی ہے اور انسانی اقدار کا جنازہ نکل چکا ہے اسی طرح اسلامی ممالک میں بھی ہو۔مغرب زدہ اسلامی ممالک بھی ابھی مغرب سے بہتر ہیں۔والدین کا احترام ابھی مسلم معاشرے سے رخصت نہیں ہوا۔اسلامی ممالک نے ابھی تک عورت کو تماشا نہیں بنایا کہ وہ ہر جگہ اپنی نسوانیت بکھیرتی رہے۔مسلمان بچے ابھی بالعموم ماؤں کی پیار بھری گودوں میں ہی پلتے ہیں نہ کہ Baby Sitters کے پاس۔بوڑھے والدین اور رشتہ دار بھی حکومت کی تحویل میں نہیں مرتے بلکہ اپنے بچوں کے درمیان عزت اور احترام سے فوت ہوتے ہیں۔مسلمان عورت مجموعی طور پر اب بھی باحیا اور باوقار ہے۔28