راکھا — Page 27
متنازع امور یہ ہیں کہ مغرب میں بالخصوص اور مشرق میں بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورت ہر وہ کام کرسکتی ہے جو مر د کر سکتا ہے۔یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ عورت مزدوری بھی کر سکتی ہے۔فوج میں بھرتی ہو کر لڑ بھی سکتی ہے۔پولیس کے فرائض بھی انجام دے سکتی ہے۔کرکٹ ، فٹ بال اور بیس بال وغیرہ بھی کھیل سکتی ہے۔تیرا کی بھی کر سکتی ہے اور تمام وہ کام کر سکتی ہے جو عام طور پر مردوں کے کام سمجھے جاتے ہیں۔لیکن وہ ان کاموں میں مرد کے معیار کا ر کر دگی تک نہیں پہنچ سکتی۔مزدوری تو وہ کر سکتی ہے لیکن مزدوری میں مرد کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔عورتوں کی پولیس فورس مردوں کی پولیس فورس کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی۔اسی طرح مرد بعض امور میں عورتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔بچوں کی تعلیم و تربیت، نرسنگ اور بچوں کی نگہداشت وغیرہ امور میں عورت مرد سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے۔گویا که مرد اور عورت کے دائرہ ہائے کار فطری طور پر الگ الگ ہیں۔مرد اور عورت صرف اس لحاظ سے مساوی ہیں کہ دونوں انسان ہیں۔دونوں کے بنیادی انسانی حقوق مساوی ہیں۔لیکن ان کی فطری استعدادیں مختلف اطراف میں جھکی ہوئی ہیں۔مرد اور عورت کے انہی فطری اختلافات کی وجہ سے اسلام نے ان کی کار (Division of work) اس طرح پر کی ہے کہ وہ انسانیت کے تقسیم کار بہترین مفاد میں ہے۔اس کے برعکس مغربی ممالک میں آزادی نسواں اور مردوں اور عورتوں میں مساوات کے نام پر جس طرح عورت ذلیل ورسوا ہو رہی ہے اور جس قسم کے 27