راکھا — Page 22
میں مرد و عورت دونوں کے حقوق برابر ہیں لیکن مردوں کو اللہ تعالیٰ نے قوام ہونے کی وجہ سے فضیلت عطا فرمائی ہے۔چونکہ میاں بیوی نے مل کر رہنا ہوتا ہے اور نظام اُس وقت تک قائم نہیں رہ سکتا جب تک ایک کو فوقیت نہ دی جائے اس لئے یہ فوقیت مرد کو دی گئی ہے اور اس کی ایک وجہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ مردا اپنا روپیہ عورتوں پر خرچ کرتے ہیں اس لئے انتظامی پنارو امور میں انہیں عورتوں پر فوقیت حاصل ہے۔‘ ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۵۱۳) حضرت خلیفہ امسیح اول ذمہ داریوں اور صلاحیتیوں کے اعتبار سے حقوق کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: نیز تجھے خبر نہیں کہ عورت اور مرد میں جناب الہی نے قدرت میں مساوات رکھی ہی نہیں۔بچہ جننے میں جو تکالیف عورتوں کو ہوتی ہیں اُن میں مردوں کا کتنا حصہ ہے۔کیا مساوات ہے؟ کیا قومی میں مساوات ہے؟ ہرگز نہیں۔میں ہمیشہ حیران که مرد و عورت میں مساوات کا خیال کسی احمق نے نکالا ؟ ( حقائق الفرقان جلد چهارم صفحه ۲۹۵-۲۹۶) وو اسی طرح ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا: رات دن کا کام نہیں دے سکتی۔دن رات کا کام نہیں دیتا۔مرد جن کاموں کیلئے پیدا کئے گئے عورتوں سے وہ کام نہیں ہوتے۔عورتیں مردوں کا کام نہیں دے سکتیں۔ہر ایک کے مختلف کام اپنے حسب حال مختلف نتیجے پیدا کرتے ہیں۔“ ( حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ ۳۹۷) 22