راکھا — Page 106
آجکل اس کی وجہ سے بہت سی قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔اکٹھے رہ کر اگر مزید گنا ہوں میں پڑنا ہے تو یہ کوئی خدمت یا نیکی نہیں ہے۔تو یہ چیز کہ ہم یا محبت کی وجہ سے اکٹھے رہ رہے ہیں ، اس پیار محبت سے اگر نفرتیں بڑھ رہی ہیں تو یہ کوئی حکم نہیں ہے۔اس سے بہتر ہے کہ علیحدہ رہا جائے۔تو ہر معاملہ میں جذباتی فیصلوں کی بجائے ہمیشہ عقل سے فیصلے کرنے چاہئیں۔اس آیت کی تشریح میں کہ کیس عَلَى الْأَعْمَى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْأَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ عَلَى الْمَرِيضِ حَرَجٌ وَّلَا عَلَى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَأكُلُوا مِنْ بُيُوتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ آبَائِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أُمَّهِتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ إِخْوَانِكُمْ أَوْ بُيُوتِ أَخَوَتِكُمْ أَوْ بُيُوتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُيُوتِ عَمْتِكُمْ اَوْ بُيُوتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُيُوتِ خَلتِكُمْ أَوْ مَا مَلَكُتُمُ مَّفَاتِحَهُ اَوْ صَدِيقِكُمُ (النور ۶۲ ) کہ اندھے پر کوئی حرج نہیں لولے لنگڑے پر کوئی حرج نہیں مریض پر کوئی حرج نہیں اور نہ تم لوگوں پر کہ تم اپنے گھروں سے یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے کھانا کھاؤ ،حضرت خلیفہ امسیح الاوّل فرماتے ہیں کہ ہندوستان میں لوگ اکثر اپنے گھروں میں خصوصا ساس بہو کی لڑائی کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔اگر قرآن مجید پر عمل کریں تو ایسا نہ ہو۔فرماتے ہیں، دیکھو ( یہ جو کھانا کھانے والی آیت ہے ) اس میں ارشاد ہے کہ گھر الگ الگ ہوں۔ماں کا گھر الگ۔اور شادی شدہ لڑکے کا گھر الگ۔تبھی تو ایک دوسرے کے گھروں میں جاؤ گے اور کھانا کھاؤ گے۔تو دیکھیں کہ یہ جو 106