راکھا — Page 102
ماں کہ بیوی انسان کو بسا اوقات ایسی صورتِ حال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے کہ کسی معاملے میں ایک رائے بیوی کی ہے اور دوسری ماں کی اور وہ دونوں اپنی اپنی بات منوانے پر بضد ہیں۔اگر مرد درست فیصلہ کرنے میں ناکام ہو جائے تو ایسے معاملات بھی گھر کے امن کو تباہ کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ظاہر ہے ماں ایک مقدس رشتہ ہے اور کسی کیلئے بھی اتنا آسان نہیں کہ اُس کی رائے کو آسانی سے نامنظور کرے۔دوسری طرف بیوی ہے جس کے ساتھ اُس نے اپنی پوری زندگی گزارنی ہے۔ایسی صورت میں مرد اپنے آپ کو چکی کے دو پاٹوں کے درمیان محسوس کرتا ہے اور کوئی راستہ اس مشکل سے نکلنے کا نہیں پاتا۔ماں اور بیوی میں اختلاف کی صورت میں مرد کا جھکا و عمو ماماں کی طرف ہوتا ہے۔اُس کے احترام کی وجہ سے اُس کا رویہ ماں کیلئے نرم ہوتا ہے۔وہ اُس کی بات رد کر نا نہیں چاہتا اور دو ٹوک الفاظ میں کھل کر اُسے غلط قرار دینے میں متذبذب ہوتا ہے۔دوسری طرف بیوی اپنے خاوند کے اس رویے کو ماں کی طرفداری قرار دے کر احتجاج کرتی ہے اور اکثر یہ احتجاج تلخی پر منتج ہوتا ہے۔اس صورتِ حال سے نپٹنا کوئی آسان کام نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ماں سے مرد کا رویہ ایسا ہی ہونا چاہئے اور یہ بات بیوی کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ نہ صرف اُس کے خاوند کو اپنی ماں سے پورے احترام اور نرم لہجے میں ہی بات کرنی ہے بلکہ خود اُس کیلئے بھی لازم ہے کہ اپنی ساس کا ماں کی طرح احترام کرے۔جہاں تک اختلاف میں فیصلہ کرنے کا تعلق ہے تو مرد کو جذبات اور تعلقات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اور قرآنی تعلیمات سے راہنمائی لیتے ہوئے عدل کے مطابق فیصلہ کرنا چاہئے اور یہ دیکھنا چاہئے کہ حق پر کون ہے، ماں یا بیوی ؟ قرآنِ پاک 102