راکھا

by Other Authors

Page 78 of 183

راکھا — Page 78

کھیتی ہے اب جس طرح چاہو سلوک کرو۔لیکن یہ نصیحت یاد رکھو کہ اپنے لئے بھلائی کا سامان ہی پیدا کرنا ورنہ اس کا خمیازہ بھگتو گے۔جب لوگ اپنی لڑکیوں کی شادی کرتے ہیں تو لڑکے والوں سے عموماً کہا کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی بیٹی تمہیں دیدی ہے اب جیسا چا ہو اس سے سلوک کرو۔اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ تم بے شک اسے جوتیاں مارا کرو۔بلکہ مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ تمہاری چیز ہے اسے سنبھال کے رکھنا۔پس آنی شِئْتُم کا مطلب یہ ہے کہ عورت تمہاری چیز ہے اگر خراب سلوک کرو گے تو اس کا نتیجہ تمہارے لئے بھی برا ہوگا اور اگر اچھا سلوک کرو گے تو اچھا ہوگا۔۔اس کے یہ معنی ہیں کہ جب تمہاری بیویاں تمہارے لئے کھیتی کی حیثیت رکھتی ہیں تو اب تمہارا اختیار ہے کہ تم جس طرح چاہو اُن سے سلوک کرو۔یعنی چاہو تو اپنی کھیتی کو تباہ کر لو اور چا ہو تو اس سے ایسے فوائد حاصل کرو جن سے دنیا میں بھی تم نیک نامی حاصل کرو اور آخرت میں بھی اپنی روح کو خوش کر سکو۔دُنیا میں کوئی احمق زمیندار ہی ہوگا جو ناقص بیج استعمال کرے یا بیج ڈالنے کے بعد کھیتی کی نگرانی نہ کرے اور اچھی فصل حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔مگر عورتوں کے معاملہ میں بالعموم اس اصول کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے اور نہ تو جسمانی اور اخلاقی لحاظ سے بیج کی صحیح طور پر حفاظت کی جاتی ہے نہ عورت کی صحت اور اُسکی ضروریات کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ بچوں کی صحیح رنگ میں تربیت کی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مردوں کی صحت کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور عورت کی صحت بھی برباد ہو جاتی ہے اور بچے بھی قوم کا مفید وجود ثابت نہیں ہوتے۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بنی نوع 78