راکھا — Page 74
ترجمہ: اور اللہ نے جو تم میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے اس کی حرص نہ کیا کرو۔مردوں کیلئے اس میں سے حصہ ہے جو وہ کمائیں اور عورتوں کیلئے اُس میں حصہ ہے جو وہ کمائیں۔عورت کا ضرورت کے تحت اور اپنے خاوند کی اجازت سے نوکری کرنا منع تو نہیں لیکن خاص طور پر جب بچے ہو جائیں تو بہتر ہے کہ عورت گھر میں ہی رہے اور بچوں کی پرورش اور نگہداشت کی ذمہ داریاں ادا کرے۔سوچا جائے تو عورت کیلئے یہ کام بھی بہت ہے اور بسا اوقات عورتیں سارا سارا دن امور خانہ داری سرانجام دیتی رہتی ہیں۔یہ بھی ذہن نشین رہنا چاہئے کہ آئندہ نسل کی پرورش اور امور خانہ داری عورت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔اس لئے محض پیسوں کی خاطر اس سے غفلت نہیں برتنی چاہئے ورنہ توازن بگڑ کر گھریلو زندگی متاثر ہوگی۔ایک بہت بڑا مسئلہ گھر کا خرچ چلانے کا بھی ہے۔اس خرچ کی تقسیم کیسے ہو؟ اس کی کئی صورتیں مختلف گھروں میں رائج ہیں۔مثال کے طور پر : (۱) بعض میں تو اشیائے خورونوش اور معمول کی چھوٹی موٹی چیزوں کیلئے مرد ایک مقرر در قم ہر مہینے باہر چلتے اپنی اہلیہ کو دے دیتے ہیں اور وہ اُس رقم سے خود ہی سودا سلف خریدتی ہے۔بڑی اور قیمتی اشیاء کی خرید، کرایہ مکان اور ہر قسم کے بل وغیرہ مردخود اپنے ذمہ رکھتے ہیں۔(۲) کچھ گھروں میں یہ طریق ہے کہ جب بھی بیوی کو کوئی چیز خریدنی ہو میاں سے رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور وہ رقم اسے مل جاتی ہے۔(۳) بعض گھروں میں بیوی کو کوئی نقد رقم نہیں دی جاتی اور مرد حضرات ضروریات کی چیزیں خود خرید کر گھر میں مہیا کرتے ہے اور بیوی سے کہا جاتا ہے 74