راکھا

by Other Authors

Page 49 of 183

راکھا — Page 49

راکھے کے فرائض جیون ساتھی کا انتخاب کامیاب عائلی زندگی کیلئے شریک حیات کے انتخاب کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔یورپ میں شادیوں کی ناکامی اور طلاق کی شرح میں غیر معمولی اضافے کی ایک بڑی وجہ شریک حیات کے انتخاب کا وہ طریق بھی ہے جو یہاں رائج ہے۔لڑکی لڑکا خود ہی تعلیمی اداروں ، نائٹ کلبوں یا سیر گاہوں وغیرہ میں ایک دوسرے کو پسند کر کے دوستی کر لیتے ہیں۔در حقیقت یہ دوستی شہوت پرستی کا ایک مہذب طریق ہے کیونکہ عموماً دوستی کے پہلے دن سے ہی یہ کام شروع ہو جاتا ہے۔اس کی بنیاد چونکہ ظاہری شکل وصورت کی پسند نا پسند پر ہوتی ہے اس لئے یہ دوستی دیر پا نہیں ہوتی۔کچھ عرصے کے بعد جب نشہ اتر جاتا ہے اور ایک سے دل بھر جاتا ہے تو نظریں کسی اور پر جمنے لگتی ہیں۔یوں کئی کئی دوست تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور پھر شاذ و نادر کے طور پر کسی دوستی کا انجام شادی بھی ہو جاتا ہے۔لیکن آجکل تو اس معاشرے میں شادی کے بغیر ہی کام چلانے کا رجحان بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔اسلامی معاشرے میں پورا خاندان بچوں کیلئے شریک حیات کے انتخاب میں شامل ہوتا ہے۔دونوں اطراف سے والدین لڑکے لڑکی کے کوائف ، سیرت وکردار اور خاندانی حالات وغیرہ دیکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے راہنمائی طلب کرنے کیلئے راستبازوں کے طریق کے مطابق استخارہ بھی کرتے ہیں۔یہ رشتے چونکہ وقتی جذبات یا محض ظاہری شکل وصورت کی بنیاد پر نہیں بلکہ نہایت سوچ سمجھ کر اور پورے حالات کا جائزہ لے کر کئے جاتے ہیں اس لئے عموماً کامیاب ہوتے ہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: 49