راکھا — Page 24
اولمپکس میں ہی دیکھ لو کہ دوڑ میں حصہ لینے والے مرد اور عورتیں کیا مقابلہ میں اکٹھے دوڑتے ہیں؟ کیا وہ فٹ بال، ہاکی اور کسی بھی کھیل میں اکٹھے کھیلتے ہیں؟ اور خاص طور پر امریکن فٹ بال میں کبھی آپ نے دیکھا کہ عورتیں اور مرد کٹھے ایک ہی ٹیم میں کھیل رہے ہوں؟ یہ سوال کرنے والے مغربی دنیا کے لوگ بھی جانتے ہیں اور اس بات پر گواہ ہیں کہ مردوں اور عورتوں کو الگ الگ جسمانی صلاحتیوں کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے۔اور قرآنِ کریم بتاتا ہے کہ مردوں کو حقوق کے لحاظ سے عورتوں پر کوئی برتری اور فضیلت نہیں دی گئی۔بلکہ فطری استعدادوں اور صلاحتیوں کی بنا پر فضیلت ہے جو خدا تعالیٰ نے مردوں میں زیادہ رکھی ہیں اور ہر کوئی جانتا ہے کہ وہ فطری صلاحیتیں کیا ہیں۔اور دوسری بات یہ ہے کہ وَ بِمَا اَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ۔مرد اپنی بیوی اور بچوں کیلئے نان نفقہ کا انتظام کرتا ہے اس لحاظ سے جو روٹی کپڑے کا بندو بست کرتا ہے قدرتی طور پر اسے ایک برتری حاصل ہوتی ہے۔جو ہا تھ کھلاتا ہے اسے بہر حال قدرتی طور پر ایک فضیلت حاصل ہوتی ہے۔جیسے کہ فرمایا: الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُفلی کیونکہ گھر کی تمام مالی ذمہ داریاں مرد کے سپرد ہیں اس لئے میں یہاں کی ان عورتوں کو سمجھاتا ہوں جو کام کرتی ہیں اور آزاد ہوتی ہیں اور انکے خاوند گھروں میں رہتے ہیں اور بچوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں کہ قرآنِ کریم کی رو سے ایسے مردوں نے اپنی برتری خود کھو دی۔اور وہ برتری ان کام کرنے والی عورتوں نے حاصل کر لی ہے۔اور پھر ایسی صورت میں ان گھروں میں عورت کا حکم چلتا ہے کیونکہ وہ کماتی ہیں۔24