راکھا

by Other Authors

Page 16 of 183

راکھا — Page 16

ہے۔اکیلے اس ایک فرق کے اثرات نے عورت اور مرد کی تمدنی زندگی میں ان کے الگ الگ دائرہ کار کے تعین اور دیگر ذمہ داریوں کی تقسیم میں بنیادی کردارادا کیا ہے۔بعض مخصوص صلاحیتیں اور قویٰ جو مر دوں میں زیادہ ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ مر داعلیٰ ہیں اور عورتیں ادنی بلکہ یہ اختلاف ان کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کا ایک لازمی تقاضا ہے۔دونوں ہی برابر کے انسان ہیں اور دونوں ہی انسانی زندگی کی گاڑی کے اہم ترین پرزے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ دونوں کی بعض مختلف ذمہ داریوں کی وجہ سے ان میں مختلف قسم کی صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔اسی طرح مردوں کی اس فوقیت کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہر مرد ہر عورت سے ہر پہلو سے اعلیٰ صلاحیتیں رکھتا ہے۔ایسی استثنائی صورتیں بہر حال موجود ہیں کہ بعض عورتیں مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کئی مردوں سے کئی قسم کی اعلیٰ صلاحیتیں رکھتی ہیں اور وہ اُن کے ماتحت کام کرتے اور اُن سے علم سیکھتے ہیں۔جس فوقیت کا ہم نے ذکر کیا ہے وہ ایک نسبتی امر ہے۔یعنی کسی بھی شعبہ کے بلند ترین مقام کیلئے مردوں اور عورتوں کی قوتوں اور صلاحیتیوں کا جائزہ لیں تو اُس میں مر دوں کو فوقیت حاصل ہے۔مثال کے طور پر کھیلوں کے کسی بھی شعبہ کے سب سے بڑے کھلاڑی کو اُسی شعبہ کی سب سے بڑی کھلاڑی پر برتری ہوگی۔اسی طرح دیگر شعبہ ہائے زندگی میں اگر چہ بالعموم ہر وہ کام جو مرد کر سکتے ہیں عورتیں بھی کر سکتی ہیں لیکن بحیثیت مجموعی مردوں کے معیار کا ر کر دگی تک نہیں پہنچ سکتیں۔مردوں کی اس مخصوص فضیلت میں بہت سی حکمتیں مضمر ہیں جو تقسیم کار کے اصول کے تحت ان کی ذمہ داریوں پر غور کرنے سے آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ خالق حقیقی نے انہیں یہ اضافی صلاحیتیں حفاظت اور رکھوالی کے فرائض سرانجام دینے کیلئے عطا فرمائی ہیں۔ظاہر ہے ان فرائض کی انجام دہی عموماً غیر معمولی محنت و مشقت ، جانفشانی اور 16