راکھا

by Other Authors

Page 155 of 183

راکھا — Page 155

ایسی عورتوں کی نظر میں اُس کے ساس اور سسر ہمیشہ بُرے ہوتے ہیں۔لیکن انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اُن کے ساس سسر خاوند کے ماں باپ ہوتے ہیں جو دُنیا میں سب سے پیارا رشتہ ہے۔اُن کے بارے میں اگر کوئی عورت نا پسندیدہ بات منہ پر لاتی ہے تو یہ اپنے ہاتھ سے اپنے گھر میں آگ لگانے والی بات ہے۔کوئی بھی مردایسی بات سے خوش نہیں ہوسکتا۔اس لئے عورتوں کیلئے لازم ہے کہ اپنے خاوند کے والدین اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سے نیک سلوک کریں بلکہ اگر خود خاوند اس بارہ میں کبھی ستی یا غفلت کرے تو اُسے یاد دہانی کرائیں۔اس طرح وہ اپنے گھر کو خوشیوں سے بھر لیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یہ مرض عورتوں میں بہت کثرت سے ہوا کرتا ہے کہ وہ ذرا سے بات پر بگڑ کر اپنے خاوند کو بہت کچھ بھلا بُرا کہتی ہیں بلکہ اپنی ساس اور سسر کو بھی سخت الفاظ سے یاد کرتی ہیں۔حالانکہ وہ اس کے خاوند کے بھی قابلِ عزت بزرگ ہیں۔وہ اس کو ایک معمولی بات سمجھ لیتی ہیں اور ان سے لڑنا وہ ایسا ہی سمجھتی ہیں جیسا کہ محلہ کی اور عورتوں سے جھگڑا۔حالانکہ خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کی خدمت اور رضا جوئی ایک بہت بڑا فرض مقرر کیا ہے یہانتک کہ حکم ہے کہ اگر والدین کسی لڑکے کو مجبور کر دیں کہ وہ اپنی عورت کو طلاق دیدے تو اس لڑکے کو چاہئے کہ وہ طلاق دیدے۔پس جبکہ ایک عورت کی ساس اور سر کے کہنے پر اس کو طلاق مل سکتی ہے تو اور کونسی بات رہ گئی ہے۔اس لئے ہر ایک عورت کو چاہئے کہ ہر وقت اپنے خاوند اور اس کے والدین کی خدمت میں لگی رہے۔اور دیکھو کہ عورت جو کہ اپنے خاوند کی خدمت کرتی ہے تو اس کا کچھ بدلہ بھی پاتی ہے۔اگر وہ اس کی خدمت کرتی ہے۔۔۔۔تو وہ 155