راکھا

by Other Authors

Page 151 of 183

راکھا — Page 151

کہ وہ اپنے گھروں کو جنت نظیر بنانے کیلئے خدا اور اُس کے رسول کے احکامات کے مطابق نیکی کے بلند معیار قائم کرنے کی کوشش کریں کیونکہ گھر کے امن کے ایک بڑے حصے کا تعلق انہی کی ذات سے ہے۔صالحہ، فرمانبردار اور محافظ قرآن کریم میں جس جگہ مردوں کو قوام قرار دئیے جانے کا ذکر ہے اُس کیساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے فرائض بھی بیان فرما دیئے ہیں۔فرمایا: فَا لصلحتُ قنتت حفظت لِلْغَيْب بمَا حَفِظَ الله (النساء ۳۵) ترجمہ: پس نیک عورتیں فرمانبردار اور غیب میں بھی اُن چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں جن کی حفاظت کی اللہ نے تاکید کی ہے۔“ ایک صالحہ بیوی کا فرض ہے کہ وہ اپنے خاوند اور گھر کے رازوں کی حفاظت کرے اور کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے خاوند کی عزت پر حرف آتا ہو۔اسی طرح اُس کا واجب احترام کرے اور اس کی مطیع اور فرمانبردار ر ہے۔یہی وہ امور ہیں جن سے وہ خاوند کے دل میں جگہ بنا سکتی ہے۔اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی احادیث پیش کی جاتی ہیں: ”حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کونسی عورت بطور رفیقہ حیات بہتر ہے؟ آپ نے فرمایا وہ جس کی طرف دیکھنے سے طبیعت خوش ہو۔مرد جس کام کے کرنے کیلئے کہے اُسے بجالائے اور جس بات کو اُس کا خاوند نا پسند کر اس سے بچے۔(نسائی) حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: خاوند کی موجودگی 151