راکھا

by Other Authors

Page 122 of 183

راکھا — Page 122

یہ دعا مانگے اور اپنے عمل سے بھی اس معیار کو حاصل کرنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ نہ ایسے گھروں کو برباد کرتا ہے، نہ ایسے خاوندوں کی بیویاں ان کے لئے دکھ کا باعث بنتی ہیں اور نہ اس کی اولادان کی بدنامی کا موجب بنتی ہے۔اور اس طرح گھر جنت کا نظارہ پیش کر رہا ہوتا ہے۔عموماً اب یہ رواج ہو گیا ہے کہ مرد کہتے ہیں کیونکہ ہم پر باہر کی ذمہ داریاں ہیں، ہم کیونکہ اپنے کاروبار میں ، اپنی ملازمتوں میں مصروف ہیں اس لئے گھر کی طرف توجہ نہیں دے سکتے اور بچوں کی نگرانی کی ساری ذمہ داری عورت کا کام ہے۔تو یاد رکھیں کہ بحیثیت گھر کے سربراہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ اپنے گھر کے ماحول پر بھی نظر رکھے، اپنی بیوی کے بھی حقوق ادا کرے اور اپنے بچوں کے بھی حقوق ادا کرے، انہیں بھی وقت دے ان کے ساتھ بھی کچھ وقت صرف کرے چاہے ہفتہ کے دو دن ہی ہوں، ویک اینڈز پر جو ہوتے ہیں۔انہیں مسجد سے جوڑے، انہیں جماعتی پروگراموں میں لائے ، ان کے ساتھ تفریحی پروگرام بنائے ، ان کی دلچسپیوں میں حصہ لے تا کہ وہ اپنے مسائل ایک دوست کی طرح آپ کے ساتھ بانٹ سکیں۔بیوی سے اس کے مسائل اور بچوں کے مسائل کے بارے میں پوچھیں ، ان کے حل کرنے کی کوشش کریں۔پھر ایک سربراہ کی حیثیت آپ کو مل سکتی ہے۔کیونکہ کسی بھی جگہ کے سر براہ کو اگر اپنے دائرہ اختیار میں اپنے رہنے والوں کے مسائل کا علم نہیں تو وہ تو کامیاب سر براہ نہیں کہلا سکتا۔اس لئے بہترین نگران وہی ہے جو اپنے ماحول کے مسائل کو بھی جانتا ہے۔یہ قابلِ فکر بات ہے کہ آہستہ آہستہ ایسے لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو اپنی ذمہ داریوں سے اپنی نگرانی کے دائرے سے فرار حاصل کرنا چاہتے ہیں یا آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔اور 122