راکھا

by Other Authors

Page 121 of 183

راکھا — Page 121

وغیرہ کو بچوں کی تعلیم وتربیت میں فعال کردار ادا نہ کرنے کیلئے جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ وہ روزگار کی وجہ سے گھر سے باہر رہتے ہیں اس لئے بچوں کی تربیت اُن کا نہیں بلکہ عورتوں کا کام ہے۔یاد رکھنا چاہئے کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے یہ مصروفیات تو ایک طرف عبادات جو خالص حقوق اللہ ہیں، کی وجہ سے بھی ایک سر براہِ خانہ کو اپنے گھریلو معاملات اور اہلِ خانہ کی نگرانی اور اُن کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داریوں سے بری قرار نہیں دیا جا سکتا۔اس سلسلے میں حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایک نہایت اہم اور واضح ارشاد پیش کیا جاتا ہے۔آپ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے مرد کے قومی کو جسمانی لحاظ سے مضبوط بنایا ہے اس لئے اس کی ذمہ داریاں اور فرائض بھی عورت سے زیادہ ہیں۔اس سے ادا ئیگی حقوق کی زیادہ توقع کی جاتی ہے۔عبادات میں بھی اُس کو عورت کی نسبت زیادہ مواقع مہیا کئے گئے ہیں۔اور اس لئے اُس کو گھر کے سربراہ کی حیثیت بھی حاصل ہے اور اسی وجہ سے اُس پر بحیثیت خاوند بھی بعض اہم ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں۔اور اسی وجہ سے حیثیت باپ اس پر ذمہ داریاں ڈالی گئی ہیں اور ان ذمہ داریوں کو نبھانے کا حکم دیا کہ تم نیکیوں پر قائم ہو، تقویٰ پر قائم ہو، اور اپنے گھر والوں کو، اپنی بیویوں کو، اپنی اولا د کو تقویٰ پر قائم رکھنے کیلئے نمونہ بنو۔اور اس کیلئے اپنے رب سے مدد ! مانگو، اس کے آگے روؤ، گڑ گڑاؤ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اے اللہ ! اُن راستوں پر ہمیشہ چلا تارہ جو تیری رضا کے راستے ہیں، کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ ہم بحیثیت گھر کے سربراہ کے، ایک خاوند کے اور ایک باپ کے، اپنے حقوق ادا نہ کر سکیں اور اس وجہ سے تیری ناراضگی کا موجب بنیں۔تو جب انسان سچے دل سے 121