راکھا

by Other Authors

Page 12 of 183

راکھا — Page 12

را کھے کی خصوصیات رکھوالی یا نگرانی کرنے والے کو کہتے ہیں۔حقیقت میں تو اللہ تعالیٰ ہی سب کا ہے لیکن زندگی کے مختلف شعبوں میں انسان بھی محدود دائرے میں رکھوالی کرتا ہے۔مثال کے طور پر پہریدار یا چوکیدار لوگوں کے گھروں اور املاک کی رکھوالی کرتا ہے۔باغبان باغ کی رکھوالی کرتا ہے۔پولیس مین بھی رکھوالی کے فرائض سرانجام دیتا ہے اور ایک فوجی بھی اپنے ملک کی سرحدوں کی رکھوالی کرتا ہے۔حفاظت یا رکھوالی کی نوعیت کی مناسبت سے راکھے میں صلاحیتوں کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔مثلاً ایک باغبان کے لئے ضروری ہے کہ اُسے نہ صرف پودوں کی واقفیت ہو بلکہ اُن کے بیجوں ، انہیں بونے اور پھل دینے کے موسموں، اُن کی ممکنہ بیماریوں اور علاج اور اُن پر سردی گرمی کے اثرات وغیرہ کا بھی پورا علم ہو۔سرحدوں کی رکھوالی کرنے والے میں بھی بعض مخصوص صلاحتیوں کا ہونا از بس ضروری ہے ورنہ وہ اپنا فرض ادا نہیں کر سکے گا۔ٹانگوں سے اپاہج آدمی کسی دفتر میں کلرک کے فرائض تو سر انجام دے سکتا ہے مگر سرحدوں کی رکھوالی نہیں کر سکتا۔اسی لئے کسی لنگڑے، یک چشم ، ہاتھ سے معذور یا دل کے مریض کو پہریدار مقرر نہیں کیا جاتا اور نہ ہی پولیس یا فوج میں بھرتی کیا جاتا ہے۔دُنیا بھر میں رکھوالی کے فرائض بالعموم مردوں کے ہی سپر د کئے جاتے ہیں۔ایسا اس لئے ہے کہ مردوں میں اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی مخصوص صلاحیتیں رکھ دی ہیں جو ان فرائض کی انجام دہی کیلئے ضروری ہیں۔جسمانی طاقت، حوصلہ، برداشت ، جرأت ،قوتِ فیصله، خطرناک صورتِ حال اور آفات کا مقابلہ کر سکنے کی صلاحیتیں رکھوالی کے لئے ضروری ہیں اور یہ بحیثیت مجموعی 12