راکھا

by Other Authors

Page 112 of 183

راکھا — Page 112

ہے۔( ملفوظات جلد ۷ صفحه ۶۳-۶۵) محض شہوات نفسانی کی اتباع میں اور حصول لذات کی خاطر زیادہ بیویاں کرنے کے بارے میں فرمایا: خدا تعالیٰ کے قانون کو اس کے منشاء کے برخلاف ہرگز نہ برتنا چاہئے اور نہ اُس سے ایسا فائدہ اٹھانا چاہئے جس سے وہ صرف نفسانی جذبات کی ایک سپر بن جاوے۔یاد رکھو ایسا کرنا معصیت ہے۔خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ شہوات کا تم پر غلبہ نہ ہو بلکہ تمہاری غرض ہر ایک امر میں تقویٰ ہو۔اگر شریعت کو سپر بنا کر شہوات کی اتباع کیلئے بیویاں کی جاویں گی تو سوائے اس کے اور کیا نتیجہ ہو گا کہ دوسری قو میں اعتراض کریں کہ مسلمانوں کو بیویاں کرنے کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں۔زنا کا نام ہی گناہ نہیں بلکہ شہوات کا کھلے طور پر دل میں پڑ جانا گناہ ہے۔دنیاوی تمتع کا حصہ انسانی زندگی میں بہت ہی کم ہونا چاہئے۔۔۔جس شخص کی دنیا وی تمتع کثرت سے ہیں اور وہ رات دن بیویوں میں مصروف ہے اُس کو رقت اور رونا کب نصیب ہو گا۔اکثر لوگوں کا یہ حال ہے کہ وہ ایک خیال کی تائید اور اتباع میں تمام سامان کرتے ہیں اور اس طرح خدا تعالیٰ کے اصل منشاء سے دُور جا پڑتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اگر چہ بعض اشیاء جائز تو کر دی ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ عمر ہی اس میں بسر کی جاوے۔۔۔۔پس جاننا چاہئے کہ جو شخص شہوات کی اتباع سے زیادہ بیویاں کرتا ہے وہ مغز اسلام سے دُور رہتا ہے۔۔۔۔آخری نصیحت ہماری یہی ہے کہ اسلام کو اپنی عیاشیوں کیلئے سپر نہ بناؤ کہ آج ایک حسین عورت نظر آئی تو اُسے کر لیا۔کل اور نظر آئی تو اُسے کر لیا۔یہ تو گویا خدا کی گدی پر عورتوں کو بٹھانا اور اُسے بھلا دینا ہوا۔( ملفوظات جلدے صفحہ ۶۵ تا ۶۹ ) 112