راکھا — Page 104
سے ہزاروں روپیہ خرچ کر کے خدا خدا کر کے بیٹے کی شادی کرتی ہے تو بھلا اس سے ایسی امید وہم میں بھی آسکتی ہے کہ وہ بے جا طور سے اپنے بیٹے کی بہو (سہوِ کا تب ہے، یہاں بیوی کا لفظ ہے۔ناقل ) سے لڑے جھگڑے اور خانہ بربادی چاہے۔ایسے لڑائی جھگڑوں میں عموماً دیکھا گیا ہے کہ والدہ ہی حق بجانب ہوتی ہے۔ایسے بیٹے کی بھی نادانی اور حماقت ہے کہ وہ کہتا ہے کہ والدہ تو ناراض ہے مگر میں ناراض نہیں ہوں۔جب اُس کی والدہ ناراض ہے تو وہ کیوں ایسی بے ادبی کے الفاظ بولتا ہے کہ میں ناراض نہیں ہوں۔یہ کوئی سوکنوں کا معاملہ تو ہے نہیں۔والدہ اور بیوی کے معاملہ میں اگر کوئی دینی وجہ نہیں تو پھر کیوں یہ ایسی بے ادبی کرتا ہے۔اگر کوئی وجہ اور باعث اور ہے تو فوراً اُسے دور کرنا چاہئے۔خرچ وغیرہ کے معاملہ میں اگر والدہ ناراض ہے اور یہ بیوی کے ہاتھ میں خرچ دیتا ہے تو لازم ہے کہ ماں کے ذریعہ خرچ کر اوے اور کل انتظام والدہ کے ہاتھ میں دے۔والدہ کو بیوی کا محتاج اور دست نگر نہ کرے۔بعض عورتیں اوپر سے نرم معلوم ہوتی ہیں مگر اندر ہی اندر وہ بڑی نیش زنیاں کرتی ہیں۔پس سبب کو دور کرنا چاہئے اور جو وجہ ناراضگی ہے اس کو ہٹا دینا چاہئے اور والدہ کو خوش کرنا چاہئے۔دیکھو شیر اور بھیڑیے اور اور درندے بھی تو ہلائے جاتے ہیں اور بے ضرر ہو جاتے ہیں۔دشمن سے بھی دوستی ہو جاتی ہے اگر صلح کی جاوے تو پھر کیا وجہ ہے کہ والدہ کو ناراض رکھا جاوے۔( ملفوظات جلد۰ اصفحہ ۱۹۲ ۱۹۳) ساس بہو اور نند بھاوج کی نوک جھونک اور لڑائیاں تو مشہور ہیں۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ شادی کے بعد لڑ کا اپنی بیوی کے ساتھ الگ مکان میں رہے۔اس طرح کم از کم روزانہ ایک وسرے سے بات بات پر اختلافات اور تلخیوں کا سلسلہ تو ختم کیا جاسکتا ہے۔104