راکھا — Page 73
کنے کی کفالت کی ذمہ داری یہ ان دو بنیادی شرائط میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے مرد کو اللہ تعالیٰ نے قوام قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا: وَ بِمَا أَنْفَقُوا مِنْ اَمْوَالِهِمْ ، چنانچہ کہہ سکتے ہیں کہ مرد کی بحیثیت ایک نگران کے یہ اہم ترین اور بنیادی اہمیت کی حامل ذمہ داری ہے جس کے بغیر اُسے نگران کہلانے کا ہی اصولاً حق نہیں رہتا۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع فرماتے ہیں: الرِّجَالُ قَوْمُونَ کا ایک ظاہری معنی تو یہ ہے کہ مرد عموماً عورتوں سے مضبوط اور ان کو سیدھی راہ پر قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔اگر مرد قَوَّامُون نہیں ہونگے تو عورتوں کے بہکنے کا امکان زیادہ ہے۔دوسرا یہ کہ وہ مردقوام ہیں جو اپنی بیویوں کے خرچ برداشت کرتے ہیں۔وہ نکھٹو جو بیویوں کی آمد پر پلتے ہیں وہ ہرگز قوام نہیں ہوتے۔( حاشیہ ترجمۃ القرآن از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ) اسلامی تعلیمات کی رو سے گھر کے اخراجات پورا کرنے کی ذمہ داری کلیتا مرد کی ہے۔عورت کے پاس اگر کوئی مال ہے جو اُس نے کمایا ہے یا اُسے اپنے ماں باپ کی وراثت سے حصے میں آیا ہے یا کسی عزیز رشتہ دار سے تحفہ ملا ہے یا پھر مہر کی رقم اُس کے پاس موجود ہے تو خاوند سے مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اس رقم کو گھر کے اخراجات کیلئے خرچ کرے۔ہاں اگر وہ اپنی خوشی سے ایسا کرے تو کر سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتا ہے : وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا ط اكْتَسَبُوَاءِ وَ لِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَط ( النساء آیت ۳۳) 73