راکھا

by Other Authors

Page 7 of 183

راکھا — Page 7

پیش لفظ ( شمشاد احمد قمر مربی سلسلہ پرنسپل جامعہ احمد یہ جرمنی) دنیا کے ہر معاشرے میں عائلی مسائل موجود ہیں جو بعض اوقات گھروں کے ٹوٹنے کا باعث بنتے ہیں اور گھر یلو زندگی کا امن وسکون برباد ہوکر رہ جاتا ہے۔اس صورتِ حال کے بعض محرکات تو ہر معاشرے میں مشترک ہوتے ہیں جبکہ بعض دوسروں کی نوعیت مخصوص معاشرتی صورتِ حال کی وجہ سے مختلف ہوتی ہے۔عائلی زندگی کے حوالے سے مغربی دنیا کا طرزِ زندگی مشرق سے بہت مختلف ہے اور مغرب میں لوگوں کو کئی ایسے مسائل کا سامنا بھی ہے جن کا مشرق میں کوئی وجود نہیں۔مثال کے طور پر مرد اور عورت میں ہر پہلو اور ہر جہت سے برابری کے غیر فطری نعرے نے اس معاشرہ میں ایسی فضا قائم کر رکھی ہے کہ جس کے نتیجے میں شرم وحیا کا فقدان ، جنسی بے راہ روی ، بغیر شادی کے میاں بیوی کے طور پر اکٹھے رہنا اور گھروں کے ٹوٹنے کی شرح میں بے پناہ اضافہ جیسے مسائل اور پھر ان کے قدرتی نتائج نے گھریلو زندگی کے امن کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور اس کی تعلیمات میں زندگی کے ہر شعبے کیلئے رہنمائی موجود ہے۔اسلام مرد اور عورت میں کسی غیر فطری برابری کا قائل نہیں بلکہ اُن کی اصناف کے تقاضوں کے عین مطابق اُن کے حقوق و فرائض متعین کرتا اور طرزِ زندگی اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ضرورت ہے تو اس امر کی کہ قانونِ فطرت کو سمجھا جائے اور مرد اور عورت ایک دوسرے کے دائرہ کار میں دخل اندازی کی بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ودیعت کی گئی صلاحیتوں کے مطابق اپنے اپنے فرائض ادا کریں۔یہی وہ واحد طریق ہے جس پر عمل کے نتیجے میں گھر یلو امن کے قیام میں مددمل سکتی ہے۔7