راکھا

by Other Authors

Page 50 of 183

راکھا — Page 50

یورپ میں ہزاروں مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ بعض لوگ دھو کے باز اور فریبی تھے مگر اس وجہ سے کہ وہ خوش وضع نوجوان تھے انہوں نے بڑے بڑے گھرانوں کی لڑکیوں سے شادیاں کر لیں اور بعد میں کئی قسم کی خرابیاں پیدا ہوئیں لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔کیونکہ رشتہ کی تجویز کے وقت باپ غور کرتا ہے۔والدہ غور کرتی ہے۔بھائی سوچتے ہیں۔رشتہ دار تحقیق کرتے ہیں اور اس طرح جو بات طے ہوتی ہے وہ بالعموم ان نقائص سے پاک ہوتی ہے جو یورپ میں نظر آتے ہیں۔یہ واقعات ہیں جو یورپ میں کثرت سے ہوتے رہتے ہیں۔ان واقعات سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مردوں کے قوام ہونے کے متعلق جو کچھ فیصلہ کیا ہے وہ بالکل درست ہے۔شریعت کا اس سے یہ منشاء نہیں کہ عورتوں پر ظلم ہو یا اُن کی کوئی حق تلفی ہو بلکہ شریعت کا اس امتیاز سے یہ منشاء ہے کہ جن باتوں میں عورتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اُن میں عورتوں کو نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔۔۔۔پس قرآن کریم نے جو کچھ کہا ہے وہ اپنے اندر بڑی حکمتیں اور مصالح رکھتا ہے۔اگر دنیا ان کے خلاف عمل کر رہی ہے تو وہ کئی قسم کے نقصانات بھی برداشت کر رہی ہے جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام کے خلاف عمل پیرا ہونا کبھی نیک نتائج کا حامل نہیں ہوسکتا۔“ (تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ (۵۱۴-۵۱۳ حضور نے جس وقت یہ بات لکھی تھی آج مغربی معاشرہ اُس سے بہت آگے نکل چکا ہے۔آج کل تو یہاں شادی وغیرہ کا بندھن ہی سرے سے ختم ہونے کو ہے۔بہر حال جن جن راستوں سے گزر کر یہاں جیون ساتھی اپنایا جاتا ہے اس میں چونکہ سرا سر نقصان ہی نقصان ہے اس لئے اسلام اس کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 50