راکھا

by Other Authors

Page 29 of 183

راکھا — Page 29

حقیقت یہ ہے کہ مغرب کے ان تمدنی، خاندانی اور سماجی و معاشرتی مسائل کاحل صرف اور صرف اسلامی تعلیم کو قبول کرنے میں ہے۔“ (الفضل انٹر نیشنل ۲۸ اپریل تا ۴ مئی ۱۹۹۵) جو لوگ زندگی کے ہر شعبہ میں مرد اور عورت کے درمیان مساوات کی بات کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جہاں مرد اور عورت خلقی طور پر مختلف ہیں وہاں ان میں مساوات کا سوال ہی بے معنی ہے۔مثلاً بچے پیدا کرنے کا کام صرف عورت ہی کر سکتی ہے۔نو ماہ سے زائد عرصہ تک نسلِ انسانی کے بیج کو صرف عورت ہی اپنے پیٹ میں رکھ کر اس کی پرورش کر سکتی ہے۔عورت ہی ہے جو شیر خوارگی اور بچپن کے ابتدائی دور میں اپنے بچوں کی دیکھ بھال کا فریضہ سر انجام دے سکتی ہے جبکہ کوئی مرد یہ کام نہیں کر سکتا۔یہ عورتیں ہی ہیں جو انتہائی قریبی خونی رشتہ ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کے ساتھ مردوں کی نسبت کہیں زیادہ گہرا اور مضبوط نفسیاتی تعلق استوار کرتی ہیں۔اگر کوئی معاشرتی اور اقتصادی نظام عورت اور مرد کے درمیان اس خلقی فرق کو مدنظر نہیں رکھتا اور اس فرق کے باعث معاشرہ میں عورت اور مرد کے اپنے اپنے مخصوص کردار کو نظر انداز کرتا ہے تو ایسا نظام ایک صحتمند سماجی اور اقتصادی توازن کے پیدا کرنے میں لازماً نا کام ہو جائے گا۔عورت اور مرد کی جسمانی ساخت میں فرق ہی وہ بنیاد ہے جس کے نتیجہ میں اسلام نے دونوں کے لئے ان کے مناسب حال الگ الگ دائرہ کار مقرر کئے ہیں۔اسلام کے معاشرتی نظام کے مطابق عورت کو خاندان کے لئے روزی کمانے کی ذمہ داری سے جہاں تک ممکن ہے 29