راکھا — Page 180
میں اُس کے سامنے سپاہی اور شاگرد نہیں ہوتے بلکہ اُس کے ماں باپ، جیون ساتھی اور پیارے بچے ہوتے ہیں۔باہر کا افسرانہ طرز عمل گھر میں اختیار کرنا دانشمندی نہیں۔گھر کے نگران کی حیثیت سے اُس کے ذمہ اہلِ خانہ کے بہت سے حقوق ہیں جنہیں اُسے ادا کرنا ہے۔اُن کی ہر طرح کی ضروریات کا خیال رکھنا اور اُن کی حفاظت کرنی ہے۔ان فرائض کی ادائیگی کرتے وقت وہ کسی کی ملازمت نہیں کر رہا بلکہ وہ اُس گھر اور اُس کھیتی کا مالک ہے۔اُس کا گھر والوں سے بہت قربت کا ایک جذباتی تعلق ہے۔اُس کے سینے میں اُن کیلئے پیار، محبت اور ہمدردی کے قدرتی جذبات اُبلتے ہیں اور اُن کی بہتری اور فلاح و بہبود کیلئے وہ دن رات محنت کرتا ہے۔اُس کے اپنی بیوی کے ساتھ قربت کے ایسے تعلقات ہوتے ہیں جو دُنیا میں کسی اور سے نہیں ہو سکتے۔بیوی اُس کی خوشنودی اور سکونِ جان کیلئے بنتی سنورتی اور اُس پر اپنی محبت اور چاہت شار کرتی ہے۔بیوی کی وجہ سے اور اُس کے ذریعے سے اُسے گھر میں پیار، سکینت اور راحت ملتی ہے۔وہ بچوں کی ماں اور مرد کی زندگی کی واحد ساتھی ہوتی ہے جس کے ساتھ اُس نے سفر زندگی جاری رکھنا ہوتا ہے۔اُس کے بچے اُس کی پدرانہ شفقت سے لطف اٹھاتے ہیں۔پس مرد اہل خانہ پر ہرگز ایک حاکم نہیں بلکہ وہ تو اُن کا ایسا محافظ اور سر پرست ہے جو نہایت مہربان اور شفیق ہے اور یہی مفہوم ہے اس آیت کا کہ الــر جـــالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی لحاظ سے وہ گھر کا منظم اعلیٰ بھی ہے۔اگر چہ گھر کے دیگر افراد بھی اپنی اپنی حیثیت سے ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن گھر کے تمام معاملات کا بحیثیت مجموعی وہی ذمہ دار اور جوابدہ ہے۔اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے ایک جماعت میں اپنے اپنے شہ کے متعلقہ سیکریٹریان بھی ذمہ دار ہوتے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی جماعت کے تمام امور کیلئے مرکز کے سامنے صدر جماعت ذمہ دار ہوتا ہے۔180