راکھا — Page 179
حرف آخر مرد اپنی مخصوص صلاحیتوں کی وجہ سے گھر کے نگران بنائے گئے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ بہت سے مرد اپنے اس مقام کا صیح اور اک نہیں رکھتے۔بعض ایسے ہیں جو اپنے آپ کو ایک حاکم سمجھتے ہیں اور گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ اُن کا رویہ بھی تحکمانہ ہوتا ہے۔اگر کوئی مرد کسی محکمے میں اعلیٰ افسر ہو جس کے ماتحت ایک معقول تعداد کام کرنے والوں کی ہو تو وہ گھر میں بھی افسرانہ لب و لہجہ استعمال کرتا ہے۔اور اگر کوئی پولیس یا فوج میں اعلیٰ افسر ہو جس کے ایک اشارے سے سینکڑوں سپاہی حرکت میں آ جاتے ہیں اور جدھر جاتا ہے سیلوٹوں سے اُس کا استقبال ہوتا ہے اور سب ادب اور احترام سے خاموش کھڑے ہو جاتے ہیں تو ان میں سے اکثر مرد بطور خاص گھروں میں بیوی بچوں پر بھی افسر بنے رہتے ہیں۔سکول کے استاد بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔وہ اپنے بچوں کیلئے باپ کم اور استاد زیادہ ہوتے ہیں۔یہ بھی درست ہے کہ بعض بڑے بڑے افسران جن کا اپنے اپنے محکموں میں بڑا رعب اور دبد بہ ہوتا ہے اُن کی اپنے گھروں میں دال نہیں گلتی اور اپنی بیگمات کے سامنے بھیگی بلی بنے رہتے ہیں۔اسی طرح بعض بیچارے مرد اپنی مردانگی کو خیر باد کہ چکے ہوتے ہیں اور حضرت خلیفہ امسیح الرابع کے بقول اپنی بیویوں کے گھروں میں یتیمی کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔مردوں کا اس قسم کا طرز عمل افراط اور تفریط کا رنگ رکھتا ہے جو درست نہیں ہے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ ایک مرد اپنے گھر والوں پر حاکم نہیں بلکہ نگران ہے۔وہ افسر یا اُستاد نہیں بلکہ بیوی کا خاوند اور بچوں کا باپ ہے۔ہر انسان کی مختلف حیثیتیں ہوتی ہیں۔گھر سے باہر اگر وہ ایس پی، ڈی سی ، میجر یا استاد و غیرہ ہے تو گھر میں وہ بیٹا، خاوند اور باپ ہے اور گھر 179