راکھا — Page 142
را کھے کے حقوق قرآن و حدیث میں بیان فرمودہ گھر کے نگران کے فرائض اور تاکیدی احکامات کے مطالعہ سے اُس کا جو نقشہ ابھرتا ہے وہ ایک شفیق ، مہربان محسن اور متوازن شخصیت کے حامل ایک ذمہ دار محافظ کا ہے جسے ہر قدم پر برداشت اور حوصلے سے کام لیتے ہوئے اپنی بیویوں سے نیک سلوک کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔یہ درست ہے کہ ان احکامات پر عمل کا معیار سب کا ایک جیسا نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے لیکن بہر حال یہی وہ معیار ہے جو اسلام نے گھر کے نگران کیلئے مقرر کیا ہے۔جہاں مردوں کے فرائض ہیں ظاہر ہے اُن کے کچھ حقوق بھی ہیں اور یہی حقوق عورتوں کے فرائض بن جاتے ہیں۔قبل ازیں تفصیل سے بیان کیا جا چکا ہے کہ مردوں اور عورتوں کے نہ تو سب کے سب فرائض ایک جیسے ہیں اور نہ ہی حقوق کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے مر دوں کے بہت سے فرائض بالکل مختلف نوعیت کے ہیں۔اب عورتوں کے فرائض کا ذکر کیا جا رہا ہے جن کی نوعیت بالکل دوسری ہے۔نگران ہونے کی وجہ سے مردوں کو فیض پہنچانے اور نگرانی کرنے والے فرائض ادا کرنے ہیں اور عورتوں کو فیضیاب ہونے والیوں کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کرنے ہیں اور اسلامی تعلیمات کا یہ کمال ہے کہ عورتوں کو بعینہ اسی قسم کے فرائض سونپے گئے ہیں۔صنف نازک کے تقاضوں، بچوں کی پیدائش اور پرورش کے حوالے سے بعض مخصوص صلاحتیوں کی وجہ سے عورتوں کی ذمہ داری ایسی ہے جس کی انجام دہی گھر میں رہ کر بہتر طور پر کی 142