راکھا

by Other Authors

Page 14 of 183

راکھا — Page 14

يَا يُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَاءً : ( النساء۲) ترجمہ: ”اے لوگو! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اُس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں میں سے مردوں اور عورتوں کو بکثرت پھیلایا۔‘ ( ترجمہ از حضرت خلیفہ مسیح الرابع ) صنف کے اس فرق کی وجہ سے آگے چل کر مرد اور عورت میں کئی مزید ظاہری اور باطنی فرق پیدا ہوئے۔اسی بنیادی فرق کی وجہ سے مرد اور عورت کے دائرہ کارا لگ الگ ہوئے اور پھر اسی کا ہی تقاضا تھا کہ بعض صلاحیتیں مردوں میں ترقی کرتیں اور بعض عورتوں میں۔انسانی زندگی کے ارتقائی ادوار کی کڑیاں ملاتے ہوئے چاہے کتنا ہی پیچھے کیوں نہ چلے جائیں نر اور مادہ کے قدرتی فرق کے اُن کی زندگی پر اثرات ایک ایسی بین حقیقت ہے جسے مانے بغیر چارہ نہیں۔اُس وقت بھی ایام حیض حمل ، بچوں کی پیدائش اور پرورش کیلئے عورتوں کو ایک خاص صورتِ حال کا سامنا تھا جس کی وجہ سے انہیں اپنی اور بچوں کی حفاظت کی خاطر پناہ گاہوں اور غاروں میں اکٹھے رہنا پڑتا جبکہ مر دعموماً باہر خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی فراہمی وغیرہ کا انتظام کرتے جس کیلئے انہیں بڑی مشقت اٹھانی پڑتی۔یہ دو قسم کے ماحول تھے جن کا ابتدائی دور کے مردوں اور عورتوں کو سامنا تھا۔ظاہر ہے وقت کے ساتھ ساتھ ان مخصوص ذمہ داریوں اور ماحول کے اثرات ان کے جسموں پر بھی پڑے اور اندرونی صلاحیتیوں پر بھی۔چنانچہ مرد جسمانی لحاظ سے اور بھی مضبوط ہوتے گئے اور اُن میں جرات، حوصله، برداشت، قوت فیصلہ، مشکلات اور آفات کا مقابلہ کرنے وغیرہ کی قوتیں اور صلاحیتیں بھی زیادہ ترقی کرتی گئیں۔14