راکھا

by Other Authors

Page 132 of 183

راکھا — Page 132

گہری نظر رکھنے والا ہے۔اور اگر تم ایک بیوی کو دوسری بیوی کی جگہ تبدیل کرنے کا ارادہ کرو اور تم اُن میں سے ایک کو ڈھیروں مال بھی دے چکے ہو تو اُس میں سے کچھ واپس نہ لو۔کیا تم اُسے بہتان تراشی کرتے ہوئے اور کھلے کھلے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے واپس لو گے۔“ سورہ البقرہ کی آیت نمبر ۲۳۰ کی تفسیر میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: استجگہ احسان کا لفظ رکھ کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ عورت کو رخصت کرتے وقت اس کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنا چاہئیے۔مثلاً اُس کے حق سے زائد مال اُسے دیدیا جائے اور اُسے عزت کے ساتھ روانہ کیا جائے۔بعض صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ اُنہوں نے اپنی بیویوں کو طلاق دی تو انہیں دس دس ہزار روپیہ تک دے دیا۔پھر فرمایا وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا اتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا - تمہارے لئے ہرگز جائز نہیں کہ اگر کوئی مال یا جائیداد تم انہیں دے چکے ہو تو طلاق کے بعد اُن سے واپس لے لو۔یہ آیت بالصراحت بتاتی ہے کہ طلاق کے بعد عورت سے زیورات اور پار چات وغیرہ واپس نہیں لئے جاسکتے۔نہ مال واپس لیا جا سکتا ہے۔نہ کوئی جائیداد جو اُسے دی جا چکی ہو واپس لی جاسکتی ہے۔بلکہ مرد اگر مہر ادا نہ کر چکا ہو تو طلاق کی صورت میں وہ مہر بھی اُسے ادا کرنا پڑیگا۔لیکن اس کے بعد ایک استثنیٰ رکھا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ صورت پیدا ہو تو پھر جائز ہے۔فرمایا إِلَّا أَنْ يَخَافَا اَلَّا يُقِيْمَا حُدُودَ اللهِ سوائے اس کے کہ اُن دونوں کو خوف ہو کہ خدا تعالیٰ کی حدود کو قائم نہ رکھ سکیں گے یعنی مرد عورت کے حقوق ادا نہ کر سکے گا اور عورت مرد کے حقوق ادا نہ کر سکے گی۔اس صورت میں اس کا حکم اور ہے جو فَانُ خِفْتُم سے شروع ہوتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے فَإِنْ خِفْتُمُ الَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا 132