راکھا

by Other Authors

Page 13 of 183

راکھا — Page 13

مردوں میں زیادہ پائی جاتی ہیں۔اسی طرح کئی ظاہری اور باطنی قومی اور صلاحیتیوں کی بناء پر نبوت، خلافت اور امامت کے مناصب بھی مردوں کیلئے مخصوص ہیں۔اسی طرح ولایت کے مختلف مدارج اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں غیر معمولی مجاہدات اور مخالفتوں کے طوفانوں کے سامنے سینہ سپر ہونے اور مقاصد کی تکمیل کیلئے پہاڑوں جیسی استقامت، جرات مندانہ قیادت اور عوام الناس کیلئے ذاتی نیک نمونہ دکھانے کیلئے اکثر مر دوں کو ہی میدانِ عمل میں دیکھا جاتا ہے۔دراصل انسانی معاشرتی زندگی کے انتظامات کو احسن رنگ میں چلانے کیلئے دُنیا بھر میں تقسیم کار کے اصول پر عمل ہوتا ہے۔کسی بھی انسان میں ہر قسم کی صلاحیتیں نہیں ہوتیں اور نہ ہی وہ اپنی ہر طرح کی ضروریات خود ا کیلا پوری کر سکتا ہے۔دُنیا میں سینکڑوں ہزاروں قسم کے کام ہیں جن کیلئے مختلف قسم کی صلاحتیوں اور ماحول کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں مختلف لوگ سرانجام دیتے ہیں۔اس طرح ہر انسان کسی نہ کسی رنگ میں دوسرے کا محتاج ہے۔اس میں ادنی اور اعلیٰ کا کسی قسم کا کوئی سوال نہیں بلکہ یہ قسیم کار کا اصول ہے جس پر انتظامات دُنیا کا دارو مدار ہے۔اسی اصول کا تقاضا تھا کہ عورت اور مرد کی صلاحیتیں اور قوی بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوتے۔یہی وجہ ہے کہ حکیم مطلق نے ان کو ایک دوسرے سے کئی پہلوؤں سے مختلف بنایا ہے۔دونوں کی صلاحتیوں اور قوتوں میں جو فرق آج ہمیں نظر آتے ہیں وہ ان کی اصناف مختلف ذمہ داریوں اور ارتقائی مراحل میں پیش آمدہ صورتِ حال کے اثرات کی وجہ سے ہیں ورنہ دونوں کی پیدائش ایک ہی جنس سے ہوئی ہے اور اس پہلو سے ان میں کسی قسم کا کوئی فرق نہیں۔قرآنِ پاک میں زندگی کے ابتدائی ادوار کا بھی بڑی تفصیل سے ذکر ملتا ہے لیکن اُن تفاصیل کو چھوڑتے ہوئے یہاں صرف انسانی زندگی کے اُس دور کا مختصر اذکر کیا جاتا ہے جس میں نر اور مادہ کے ملاپ سے انسانی نسل کے پھیلاؤ کا نظام جاری ہوا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 13