راکھا — Page 111
اس قدر ذکر ہوا تھا کہ ایک صاحب نے اُٹھ کر عرض کی البدر اور الحکم اخباروں میں تعدد ازدواج کی نسبت جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ذمہ دوسرا نکاح حضور نے فرض کر دیا ہے۔آپ نے فرمایا: ہمیں جو کچھ خدا تعالیٰ سے معلوم ہوا ہے وہ بلا کسی رعایت کے بیان کرتے ہیں۔قرآن شریف کا منشا زیادہ بیویوں سے یہ ہے کہ تم کو اپنے نفوس کو تقویٰ پر قائم رکھنے اور دوسرے اغراض مثلاً اولا دصالحہ کے حاصل کرنے اور خویش واقارب کی نگہداشت اور اُن کے حقوق کی بجا آوری سے ثواب حاصل ہو اور اپنی اغراض کے لحاظ سے اختیار دیا گیا ہے کہ ایک دو تین چار عورتوں تک نکاح کر لولیکن اگر ان میں عدل نہ کر سکو تو پھر یہ فستق ہوگا اور بجائے ثواب کے عذاب حاصل کرو گے کہ ایک گناہ سے نفرت کی وجہ سے دوسرے گناہوں پر آمادہ ہوئے۔دل دکھانا بڑا گناہ ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بڑے نازک ہوتے ہیں۔جب والدین اُن کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالے کرتے ہیں تو خیال تو کرو کہ کیا امید میں اُن کے دلوں میں ہوتی ہیں جن کا اندازہ انسان عاشـر و مـن بالمعروف کے حکم سے ہی کر سکتا ہے۔اگر انسان کا سلوک اپنی بیوی سے عمدہ ہو اور اُسے ضرورتِ شرعی پیدا ہو جاوے تو اس کی بیوی اُس کے دوسرے نکاحوں سے ناراض نہیں ہوتی۔ہم نے اپنے گھر میں کئی دفعہ دیکھا ہے کہ وہ ہمارے نکاح والی پیشگوئی کے پورا ہونے کیلئے رو رو کر دعائیں کرتی ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ بیویوں کی ناراضگی کا باعث خاوند کی نفسانیت ہوا کرتی ہے اور اگر اُن کو اس بات کا علم ہو کہ ہمارا خاوند صحیح اغراض اور تقویٰ کے اصول پر دوسری بیوی کرنا چاہتا ہے تو پھر وہ کبھی ناراض نہیں ہوتیں۔فساد کی بناء تقویٰ کی خلاف ورزی ہوا کرتی 111