راکھا

by Other Authors

Page 105 of 183

راکھا — Page 105

وو حضرت خلیفہ مسیح الاوّل فرماتے ہیں: ” مِنْ بُيُوتِكُمْ اَوْ بُيُوتِ ابَا نِكُمُ۔۔۔أَو بُيُوتِ خَلتِكُمْ: ہندوستان میں لوگ اکثر اپنے گھر میں خصوصاً ساس بہو کی لڑائی کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔قرآن مجید پر عمل کریں تو ایسا نہ ہو۔دیکھو اس میں ارشاد ہے کہ گھر الگ الگ ہوں۔ماں کا گھر الگ۔اولا د شادی شدہ کا گھر الگ۔‘“ (حقائق الفرقان جلد ۳ صفحه ۲۳۳) حضرت خلیفہ المسیح الثانی اس بارہ میں فرماتے ہیں : ” جب عورت گھر آتی ہے تو مطالبہ کرتی ہے کہ اُس کا میاں اپنے والدین سے فوراً علیحدہ ہو جائے۔اگر چہ یہاں تک تو درست ہے کہ علیحدہ مکان ہو اور یہ شریعت کا بھی حکم ہے کیونکہ وہ نو جوان ہیں اُن کو بے تکلفی کی بھی ضرورت ہے۔اگر وہ ہر وقت قیدر ہیں تو پھر وہ کیسے خوش رہ سکتے ہیں۔۔۔( خطبات محمود جلد ۳ صفحه ۶۴) وو حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: پھر ایک بیماری جس کی وجہ سے گھر برباد ہوتے ہیں ،گھروں میں ہر وقت لڑائیاں اور بے سکونی کی کیفیت رہتی ہے وہ شادی کے بعد بھی لڑکوں کا تو فیق ہوتے ہوئے اور کسی جائز وجہ کے بغیر بھی ماں باپ بہن بھائیوں کے ساتھ اُسی گھر میں رہنا ہے۔اگر ماں باپ بوڑھے ہیں ، کوئی خدمت کرنے والا نہیں ،خود چل پھر کر کام نہیں کر سکتے اور کوئی مددگار نہیں تو پھر تو اس بچے کیلئے ضروری ہے اور فرض بھی ہے کہ انہیں اپنے ساتھ رکھے اور اُن کی خدمت کرے۔لیکن اگر بہن بھائی بھی ہیں جو ساتھ رہ رہے ہیں تو پھر علیحدہ گھر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔105