راکھا

by Other Authors

Page 103 of 183

راکھا — Page 103

میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماں باپ اگر خدا اور رسول کے واضح احکامات کے خلاف کوئی بات کریں تو اُن کی وہ بات نہیں ماننی۔(العنکبوت و تضمن ۱۶) اگر آپ سمجھتے ہیں کہ بیوی حق پر ہے تو اُسی کی رائے کے مطابق عمل کریں اور ماں کو محبت اور ادب واحترام سے سمجھا دیں اور اگر وہ نہیں سمجھتی تو دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اُسے سمجھا دے۔اس بات کی کسی صورت میں اجازت نہیں کہ ماں کو حق پر نہ پا کر انسان اُس کا نافرمان ہو جائے اور اُس کے حقوق ادا کرنے سے ہاتھ روک لے اور اس کا ادب احترام ترک کر دے۔ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں درج ہے کہ: ایک دوست نے خط کے ذریعے اس امر کا استفسار کیا کہ میری والدہ میری بیوی سے ناراض ہے اور مجھے طلاق کے واسطے حکم دیتی ہے مگر مجھے میری بیوی سے کوئی رنجش نہیں۔میرے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا کہ: والدہ کا حق بہت بڑا ہے اور اس کی اطاعت فرض۔مگر پہلے یہ دریافت کرنا چاہئے کہ آیا اس ناراضگی کی تہہ میں کوئی اور بات تو نہیں ہے جو خدا کے حکم کے بموجب والدہ کی ایسی اطاعت سے بری الذمہ کرتی ہو مثلاً اگر والدہ اس سے کسی دینی وجہ سے ناراض ہو یا نماز روزہ کی پابندی کی وجہ سے ایسا کرتی ہو تو اُس کا حکم ماننے اور اطاعت کرنے کی ضرورت نہیں۔اور اگر کوئی ایسا مشروع امر ممنوع نہیں ہے جب تو وہ خود واجب الطلاق ہے۔اصل میں بعض عورتیں محض شرارت کی وجہ سے ساس کو دُکھ دیتی ہیں۔گالیاں دیتی ہیں، ستاتی ہیں۔بات بات پر اس کو تنگ کرتی ہیں۔والدہ کی ناراضگی بیٹے کی بیوی پر بے وجہ نہیں ہوا کرتی۔سب سے زیادہ خواہش مند بیٹے کے گھر کی آبادی کی والدہ ہوتی ہے اور اس معاملہ میں ماں کو خاص دلچسپی ہوتی ہے۔بڑے شوق 103