راکھا — Page 88
کو ہرگز ایسا موقعہ نہ دیں کہ وہ کہہ سکیں کہ تو فلاں بدی کرتا ہے بلکہ عورت ٹکریں مار مار کر تھک جاوے اور کسی بدی کا پتہ اُسے مل ہی نہ سکے تو اس وقت اس کو دینداری کا خیال ہوتا ہے اور وہ دین کو بجھتی ہے۔مرد اپنے گھر کا امام ہوتا ہے۔پس اگر وہی بداثر قائم کرتا ہے تو کس قدر بداثر پڑنے کی امید ہے۔مرد کو چاہئے کہ اپنے قومی کو برمحل اور حلال موقعہ پر استعمال کرے۔مثلاً ایک قوت غضبی ہے جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہوکر گفتگو نہ کرے۔مرد کی ان تمام باتوں اور اوصاف کو عورت دیکھتی ہے۔وہ دیکھتی ہے کہ میرے خاوند میں فلاں فلاں اوصاف تقویٰ کے ہیں۔جیسے سخاوت ،حلم ، صبر اور جیسے اُسے پر کھنے کا موقعہ ملتا ہے وہ کسی دوسرے کو نہیں مل سکتا۔اسی لئے عورت کو سارق بھی کہا گیا ہے کیونکہ یہ اندر ہی اندر اخلاق کی چوری کرتی رہتی ہے حتی کہ آخر کار ایک وقت پورا اخلاق حاصل کر لیتی ہے۔( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۰۷۔۲۰۹) کوئی زمانہ ایسا نہیں ہے جس میں اسلامی عورتیں صالحات میں نہ ہوں گو تھوڑی ہوں مگر ہوں گی ضرور۔جس نے عورت کو صالحہ بنانا ہو وہ خود صالح بنے۔ہماری جماعت کے لئے ضروری ہے کہ اپنی پر ہیز گاری کے لئے عورتوں کو پر ہیز گاری سکھاویں ورنہ وہ گنہگار ہوں گے اور جبکہ اس کی عورت سامنے ہو کر بتلا سکتی ہے کہ 88