راکھا — Page 33
کے جو دوسرے قدرتی نتائج ظاہر ہونگے وہ شاید مغربی اقوام کے لئے تو قابلِ قبول ہوں لیکن اسلام میں اس قسم کی گندگی کی قطعا کوئی گنجائش نہیں۔اسلام مغرب کی طرح نہ تو کسی غیر فطری مساوات کی تعلیم دیتا ہے اور نہ ہی ایسی نام نہاد آزادی کی اجازت دیتا ہے جس کے نتیجے میں مغربی معاشرہ جنسی بے راہ روی کا شکار ہو چکا ہے اور گھروں کے امن اٹھ چکے ہیں۔مغرب کو جو مادر پدر آزادی حاصل ہے اور اس آزادی نے جو گل کھلائے ہیں اس پس منظر میں یہاں کے ایک فلسفی اور دانشور سے بنی نوع انسان کے مستقبل کے بارے میں سوال کیا گیا تو اُس نے ایک لمبی آہ بھر کر کہا کہ جس ملک کا خاندانی نظام بکھر کر رہ گیا ہو، مر د دوسری عورتوں کے ساتھ گھومتا ہو اور بیوی دوسرے مردوں کے ساتھ سیر میں کرتی ہو ،لڑکی کو یہ ضرورت محسوس نہ ہو کہ وہ گھر سے باہر جاتے وقت ماں باپ سے پوچھ لے اور لڑکا اپنی گرل فرینڈ گھر لے آتا ہو، ایک دوسرے کا احترام اٹھ گیا ہو اور شرم وحیا کا تصور مٹ گیا ہو تو پھر انسان کے مستقبل کے بارے میں سوال کرنے والے کو اس کا جواب اپنے گھر میں ڈھونڈ نا چاہئے۔ایک اور نقطہ نگاہ بھی ہے۔عورتوں کا اپنا ایک عزت و تکریم کا مقام اور اہمیت ہے۔اپنا ایک شخص ، ایک پہچان ہے۔آخر وہ کیوں مرد بنا چاہتی ہیں؟ وہ نہ تو کوئی ادنی مخلوق ہیں اور نہ ہی محکوم۔وہ بھی بالکل اُسی طرح کی انسان ہیں جیسے کہ مرد۔جس طرح مردا اپنی خدا داد صلاحیتیوں کے مطابق فرائض سرانجام دیتے ہیں اُسی طرح عورتیں بھی اپنی طاقتوں اور قویٰ کی مناسبت سے کارخانہ حیات میں کام کرتی ہیں۔یہ فطرت کے غیر مبدل قوانین ہیں جن کے مطابق ان کی اپنی اپنی ذمہ داریاں اور دائرہ کار ہیں۔اسلامی تعلیمات بھی فطرت کے انہی قوانین کے مطابق دونوں کیلئے الگ الگ لائحہ عمل متعین کرتی اور اُن کی فطری ضرورتوں کے مطابق اور ایک پرامن اورخوشگوار معاشرے کی تشکیل و تکمیل کیلئے ایک مکمل نظام مہیا کرتی ہیں۔پس عورتوں کو کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار ہونے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں۔33