راکھا

by Other Authors

Page 26 of 183

راکھا — Page 26

تعلیم و تربیت اسی طرح فرض ہے جس طرح مرد کی۔عورت کے فرائض اور حقوق بنیادی طور پر وہی ہیں جو مرد کے ہیں لیکن چونکہ عورت کی فطری بناوٹ مرد سے مختلف ہے اس کے قومی مختلف ہیں، اس کی Physics مختلف ہے، اس کی Chemistry مختلف ہے، اس کی Biology مختلف ہے ، اس کی نفسیات مختلف ہے۔ان فطری اختلافات کے پیش نظر مرد اور عورت کے فرائض و حقوق میں بنیادی طور پر ایک جیسے ہوتے ہوئے بھی تفصیلات مختلف ہیں۔قبل اس کے کہ میں ان تفصیلات میں جاؤں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مرد اور عورت کے فطری اختلافات کی کچھ وضاحت کر دی جائے۔جیسا کہ میں نے عرض کیا ہے کہ عورت کی فطری بناوٹ ہی مرد سے مختلف ہے۔مردقد ، وزن ، جسمانی قوت اور کئی ایک پہلوؤں سے عورت سے مختلف ہے۔اس کی ساخت سخت اور محنت طلب کاموں کیلئے زیادہ موزوں ہے۔گو یہ حقیقت نا قابلِ تردید ہے لیکن مرد اور عورت کی برابری کی بحثوں کو سلجھانے کیلئے اس کی کسی قدر تفصیل بیان کرنا ضروری ہے۔یہ امر کہ مرد کے جسم میں رحم اور اس سے متعلقہ اجزاء نہیں ہوتے غیر متنازعہ امر ہے۔اسی طرح پر مرد کا جسم بچے کی خوراک بنانے کی صلاحیت سے عاری ہے۔بچے کی پرورش جس حو صلے ، صبر، استقلال، قربانی اور جذباتی لگاؤ کی متقاضی ہوتی ہے مرد بالعموم بچے کی ان ضروریات کی تکمیل کیلئے غیر موزوں ہوتا ہے جبکہ عورت فطری طور پر ان فرائض کی ادائیگی کیلئے بنائی گئی ہے۔ان حقائق سے انکار ممکن نہیں۔26