راکھا

by Other Authors

Page 25 of 183

راکھا — Page 25

تو یہاں دو طرح کی برتری کا ذکر ہے۔ایک قسم کی برتری تو وہ ہے جو مستقل جسمانی برتری ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت مرد سے نہیں چھین سکتی۔اس کی ایک دوسری شکل بھی ہے اور وہ ہے بچوں کو پیدا کرنا۔کیا عورت اور مرد اس لحاظ سے برابر ہو سکتے ہیں۔کیا یہ عورتیں کہ سکتی ہیں کہ یہ انصاف اور عدل کے خلاف ہے کہ صرف عورتیں ہی بچے جنیں۔اب ہم یہ قانون بناتی ہیں کہ آئندہ سے مرد بچے پیدا کیا کریں گے۔برتری کی یہ قسم خدا تعالیٰ کی طرف سے مستقل طور پر مرد کو حاصل ہے۔کسی انسان کے دائرہ اختیار میں نہیں کہ اس برتری کو اس سے چھین سکے یا تبدیل کر سکے۔دوسری قسم کی برتری وہ ہے جسے میں پہلے بیان کر چکا ہوں اور وہ ہے بیوی بچوں کیلئے نان نفقہ کا انتظام۔اور یہ برتری مرد کو اس وقت تک حاصل رہتی ہے جب تک وہ اس ذمہ داری کو نبھاتا ہے۔“ (الفضل انٹرنیشنل ۱۹ تا ۲۵ فروری ۱۹۹۹) اسی طرح ایک موقع پر آپ نے فرمایا: ”اسلام کی ہر تعلیم کی بنیاد فطرت انسانی پر قائم ہے۔اسی لئے اس سے بہتر تعلیم کا تصور محال ہے۔عورت سے متعلق اسلامی تعلیم بھی انسان کے فطری قومی اور رجحانات وغیرہ پر قائم ہے۔نسلِ انسانی کی بقاء اور تسلسل کے قیام کیلئے مرد اور عورت میں جنسی کشش کی خاصیت رکھی گئی ہے جس کا فطری اور موزوں استعمال نسل انسانی کی بقاء اور ارتقاء کیلئے ضروری ہے۔۔۔اسلام عورت کو وہ تمام عزت و تکریم اور حقوق دیتا ہے جو اس کی جسمانی، ذہنی، فکری، قلبی ، سماجی، معاشرتی، معاشی ، وراثتی، اخلاقی، روحانی اور دیگر ضروریات کیلئے ضروری ہیں۔عورت کی 25