راکھا

by Other Authors

Page 23 of 183

راکھا — Page 23

حضرت علایقہ اسیح الثانی فرماتے ہیں : " حضرت خلیفہ اسی اول سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ جموں میں ایک حج اسی موضوع پر ان سے بحث کرنے لگا کہ مرد و عورت میں مساوات ہونی ضروری ہے۔آپ نے فرمایا کہ پچھلی دفعہ آپ کی بیوی کے لڑکا ہوا تھا اب کے آپ کے ہونا چاہئے۔یہ جواب سن کے وہ کہنے لگا کہ میں نے سنا ہوا تھا کہ مولوی بد تہذیب ہوتے ہیں مگر میں آپ کو ایسا نہ سمجھتا تھا لیکن اب معلوم ہوا کہ آپ بھی ایسے ہی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اس میں بدتہذیبی کی کوئی بات نہیں۔میں نے تو ایک مثال دی تھی اور آپ کو بتایا تھا کہ فطرت نے دونوں کو الگ الگ کاموں کیلئے پیدا کیا ہے تو اس مساوات کے شور سے کیا فائدہ؟ حقیقت یہ ہے کہ مساوات بے شک ہے مگر دونوں کے کام الگ الگ ہیں۔اس بات کو پیش کرنے کی کسی کو جرات نہیں ہوتی کیونکہ قومی روح موجود نہیں۔ہر شخص اپنی ذات کو دیکھتا ہے۔اگر عورتوں کیلئے یہ قربانی ہے کہ وہ گھروں میں رہیں تو مرد کیلئے بھی اس کے مقابلہ میں یہ بات ہے کہ میدانِ جنگ میں جا کر سر کٹوائے۔لیکن چونکہ قومی اور ملی روح موجود نہیں اس لئے ان باتوں کو کوئی پیش کرنے کی جرات نہیں کرتا۔( خطبہ جمعہ فرموده ۱۰ فروری ۱۹۳۹ء مطبوعه الفضل امارچ ۱۹۳۹ء) ایک مجلس سوال و جواب میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع سے قرآن کریم میں مرد کو قوام قرار دینے کی فلاسفی دریافت کی گئی تو آپ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: تمہارا دل بھی اس بات کو مانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فطری طور پر مرد کو عورت پر فضیلت دی ہے۔اور کوئی مساوی حقوق کی تھیوری اس اصولی فرق کو مٹا نہیں سکتی۔23