راکھا — Page 15
سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا مرد اور عورت کے قومی اور صلاحیتیوں میں یہ فرق نا انصافی نہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ سوال صرف عورت اور مرد کی صلاحتیوں میں فرق کا نہیں۔یہ فرق تو تمام انسانوں میں پائے جاتے ہیں۔رنگ ، قد ، جسمانی طاقت ، علم ، فہم اور دیگر بیسیوں ظاہری اور باطنی صلاحیتیوں اور اُن کے پیشوں اور ذمہ داریوں میں فرق ہوتا ہے۔پس یہ ہرگز نا انصافی نہیں۔عورت اور مرد میں یہ فرق بھی اُن کی اصناف مختلف ذمہ داریوں کے تقاضوں اور فطرت کے عین مطابق ہے جس کے بغیر تخلیق کی تکمیل ہی ممکن نہ تھی۔مزید برآں اسی فرق میں تو سارا حسن ہے، اسی میں ہی تو چاہت ، موڈت ، ہمدردی اور لذت وغیرہ کا راز پنہاں ہے۔اسی کا نام ہی تو زندگی ہے۔مردوں کی مردانگی اور عورتوں کی نسوانیت کے مخصوص تقاضوں میں ہی تو کشش اور جذب ہے۔اگر یہ فرق نہ ہوتے تو زندگی بالکل بے کیف ہو کر رہ جاتی۔پس یہ ایک حقیقت ہے کہ حکیم مطلق نے جیسا اس دُنیا کو اور دنیا کی چیزوں کو بنایا ہے انہیں بالکل اسی طرح ہی ہونا چاہئے تھا۔خلاصہ کلام یہ کہ مردوں اور عورتوں میں سب سے بڑا اور بنیادی فرق اُن کی صنف کا ہے۔اسی کے لازمی نتیجے کے طور پر ان کے بہت سے ظاہری اور باطنی قومی اور صلاحتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔یہ فرق کمیت کے اعتبار سے بھی ہیں اور کیفیت کے اعتبار سے بھی۔بیسیوں مثالوں میں سے صرف دو پیش کی جاتی ہیں۔کیفیت کے اعتبار سے جسمانی طاقت تو دونوں میں ہوتی ہے لیکن ایک جیسی نہیں ہوتی۔رونا مردوں کو بھی آتا ہے اور عورتوں کو بھی لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ عورتیں جذبات سے مغلوب ہو کر بہت جلد رونا شروع کر دیتی ہیں۔کمیت کے اعتبار سے حیض و نفاس، حمل، بچے کی پیدائش اور اسکی خوراک کا قدرتی نظام عورت سے خاص امور ہیں۔دوسری طرف جسمانی لحاظ سے مردوں کا زیادہ طاقتور ہونا خاص اہمیت کا حامل 15