راکھا — Page 141
یہ مغرب والے اللہ جانے کس اسلام کی بات کرتے ہیں جس میں عورتوں کے حقوق مردوں سے کم ہیں۔جس اسلام کو ہم جانتے ہیں ہمیں تو اس میں عورتوں کے حقوق زیادہ نظر آتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی ضابطۂ حیات میں مرد عورتوں کے خدمتگار ہیں۔مرد نگران ہونے کی وجہ سے اگر گھر کا سر براہ ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہلِ خانہ کا خدمتگار ہے۔اُن کیلئے ہر قسم کی ضروریات زندگی مہیا کرنے کی ذمہ داری بھی مرد کی ہے اور پھر یہ خوف بھی کہ کہیں کوئی زیادتی ہی نہ ہو جائے۔مرد اگر گھر کا نگران ہے تو وہ بھی بلا نگرانی نہیں۔اسلامی ضابطہ حیات میں اُس کی نگرانی کیلئے ایک تو قضاء کا نظام موجود ہے اور دوسرے خدا کا نبی اور اُس کے نائبین بذات خود نگرانی کرتے ہیں۔آج سے چودہ سو سال پہلے کے مسلمان بھی اپنے گھروں میں اپنی بیویوں سے بے تکلفی سے بات کرتے ڈرتے تھے مبادا وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں شکایت کر دیں اور آج جماعت احمدیہ میں بھی وہی سنت پوری ہوتی نظر آتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام احمدی مسلمان عورتوں کیلئے ایک ڈھال تھے اور آپ کے بعد خلفائے احمدیت بھی اسی سنت کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔نبوت اور خلافت کی یہ بھی ایک برکت ہے۔141