راکھا — Page 140
ہے اور جس رنگ میں مردوں کو پابند کیا گیا ہے اُس سے یہ حقیقت بہر حال روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کے حقوق کی ایسی حفاظت کی ہے جیسی کسی اور مذہب نے نہیں کی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: عورتیں یہ نہ سمجھیں کہ اُن پر کسی قسم کا ظلم کیا گیا ہے۔کیونکہ مرد پر بھی اُس کے بہت سے حقوق رکھے گئے ہیں بلکہ عورتوں کو گو یا بالکل کرسی پر بٹھا دیا گیا ہے اور مرد کو کہا گیا کہ ان کی خبر گیری کر۔اُس کا تمام کپڑا کھانا اور تمام ضروریات مرد کے ذمہ ہیں۔( ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۳۰) نظام دُنیا تقسیم کار کے اصول کے مطابق چل رہا ہے۔دُنیا کے کسی بھی ادارے یا تنظیم کا کام افسری ماتحتی کے بغیر چل ہی نہیں سکتا۔اسلامی ضابطۂ حیات میں گھر کے یونٹ میں انتظامی امور کیلئے مرد کو اس کی مخصوص صلاحتیوں کی وجہ سے نگران مقرر کیا گیا ہے۔اگر وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تقوی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے گھر کی نگرانی کے فرائض ادا کرتا ہے اور اہلِ خانہ کے حقوق ادا کرتا ہے تو اس میں اعتراض والی کونسی بات ہے؟ اگر یہ اعتراض ہو کہ بعض مسلمان مرد اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے عورتوں پر ظلم کرتے ہیں تو یا درکھنا چاہئے کہ یہ بات مسلمانوں سے ہی خاص نہیں۔ایس گنا ہیست که در شهر شما نیز کنند۔یہ تو ایسا گناہ ہے کہ تمہارے شہر میں بھی کیا جاتا ہے۔اس طرح کے ظلم کرنے والے تو دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب میں پائے جاتے ہیں۔کیا یورپ میں مرد، عورتوں پر ظلم نہیں کرتے ؟ مردوں کی طرف سے عورتوں پر تشد داور زیادتیوں سے بچاؤ کیلئے یورپ میں بھی مختلف ادارے قائم ہیں جن کے اڈریس اور فون نمبروں پر مشتمل اشتہارات پبلک مقامات پر اور لوکل ٹرینوں میں بھی لگے نظر آتے ہیں۔یہ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ مہذب کہلانے والی اس دُنیا میں بھی مرد عورتوں پر تشد داور ظلم کرتے ہیں۔140