راکھا

by Other Authors

Page 139 of 183

راکھا — Page 139

پیدا ہوتا ہے۔لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (البقرہ ۲۸۷) کا فرمانِ الہی ہماری اس طرف راہنمائی کرتا ہے کہ اگر اس حکم پر عمل کرنا انسانی طاقت میں نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہرگز انسان کو اس کا مکلف نہ کرتا۔دوسرے یہ کہ انبیاء تو آتے ہی اس لئے ہیں کہ احکامات پر خود عمل کر کے دوسروں کیلئے نمونہ ٹھہریں تا کہ متبعین بھی اُن کے نقشِ قدم پر چل سکیں۔اگر کسی حکم پر عمل کرنا انسان کے بس میں ہی نہ ہو تو وہ حکم ہی لغو ٹھہرتا ہے۔اس بارہ میں حضرت خلیفتہ المسیح اوّل ا فرماتے ہیں: آجکل دنیا میں ایک بیماری ہے نہ صرف عورتوں میں بلکہ مردوں میں بھی کہ جب ہم کسی راست باز کے اعمال ، احکام اور چال چلن بیان کرتے ہیں تو اس وقت بہت لوگ شیطانی اغوا سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کام ہم سے نہیں ہوسکتا۔نہ ہم رسول نہ رسول کی بی بی۔میرے نزدیک یہ کہنا کفر ہے۔اور خدا پر بھی الزام آتا ہے۔اس لئے کہ اگر ہم سے ان احکام کا نباہ نہیں ہوسکتا تو کیا خدا نے کوئی لغو حکم دیا ہے۔پھر جب خدا نے نبی کی اتباع کا حکم دیا ہے۔جبکہ ہم وہ کام کر ہی نہیں سکتے تو ہمیں ان کی اتباع کا حکم کیوں ملا؟ میرا یہ ایمان ہے کہ جن احکام کا متبع خدا نے ہم کو بنایا ہے ہم ضرور کر سکتے ہیں اور جن سے روکا ہے اُن سے ہم رک سکتے ہیں۔پس میں یقین کرتا ہوں کہ خدا نے جو حکم دیے ہیں ان کو ہم کر سکتے ہیں اور اس کے موانعات سے ہم رک سکتے ہیں۔“ ( حقائق القرآن جلد سوم صفحه ۴۰۴-۴۰۵) پس عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ پر عمل کرنا عام انسان کیلئے چاہے کتناہی مشکل کیوں نہ ہو لیکن ناممکن ہر گز نہیں۔اسلامی تعلیمات میں عورتوں سے نیک سلوک کی جس قدر تاکید پائی جاتی 139