راکھا — Page 131
رکھنا ہے یا احسان کے ساتھ رخصت کرنا ہے۔اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم اُس میں سے کچھ بھی واپس لو جو تم انہیں دے چکے ہو۔سوائے اس کے کہ وہ دونوں خائف ہوں کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے۔اور اگر تم خوف محسوس کرو کہ وہ دونوں اللہ کی مقررہ حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں اس ( مال کے بارہ میں جو وہ عورت ( قضیہ نپٹانے کی خاطر مرد کے حق میں ) چھوڑ دے۔اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی مقررہ میعاد پوری کر لیں ( تو چاہو ) تو تم انہیں دستور کے مطابق روک لو یا ( چاہو تو ) معروف طریق پر رخصت کر دو۔اور تم انہیں تکلیف پہنچانے کی خاطر نہ روکوتا کہ اُن پر زیادتی کر سکو۔اور جو بھی ایسا کرے تو یقیناً اُس نے اپنی ہی جان پر ظلم کیا۔تم پر کوئی گناہ نہیں اگر تم عورتوں کو طلاق دے دو جبکہ تم نے ابھی انہیں چھوا نہ ہو یا ابھی تم نے ان کے لئے حق مہر مقرر نہ کیا ہو۔اور انہیں کچھ فائدہ بھی پہنچاؤ۔صاحب حیثیت پر اس کی حیثیت کے مطابق فرض ہے اور غریب پر اس کی حیثیت کے مناسب حال۔( یہ ) معروف کے مطابق کچھ متاع ہو۔احسان کرنے والوں پر تو ( یہ ) فرض ہے۔اور اگر تم انہیں اس سے پیشتر طلاق دے دو کہ تم نے انہیں چھوا ہو، جبکہ تم ان کا حق مہر مقرر کر چکے ہو ، تو پھر جو تم نے مقرر کیا ہے اس کا نصف (ادا کرنا) ہوگا۔سوائے اس کے کہ وہ (عورتیں) معاف کر دیں ، یا وہ شخص معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کا بندھن ہے۔اور تمہارا عفو سے کام لینا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔اور آپس میں احسان ( کا سلوک) بھول نہ جایا کرو۔یقینا اللہ اس پر جو تم کرتے ہو 131