راکھا

by Other Authors

Page 110 of 183

راکھا — Page 110

وو جاوے ورنہ یہ نہ ہو کہ بجائے ثواب کے عذاب ہو۔( ملفوظات جلد ۲ صفحہ ۱۴۰) محبت کو بالائے طاق رکھ کر عملی طور پر سب بیویوں کو برابر رکھنا چاہئے۔مثلاً پارچہ جات ، خرچ خوراک، معاشرت حتی کہ مباشرت میں بھی مساوات برتے۔یہ حقوق اس قسم کے ہیں کہ اگر انسان کو پورے طور پر معلوم ہوں تو بجائے بیاہ کے وہ ہمیشہ رنڈ وار ہنا ہی پسند کرے۔خدا تعالیٰ کی تہدید کے نیچے رہ کر جو شخص زندگی بسر کرتا ہے وہی اُن کی بجا آوری کا دم بھر سکتا ہے۔ایسے لذات کی نسبت جن سے خدا تعالیٰ کا تازیانہ ہمیشہ سر پر رہے تلخ زندگی بسر کر لینی ہزار ہا درجہ بہتر ہے۔تعدد ازدواج کی نسبت اگر ہم تعلیم دیتے ہیں تو صرف اس لئے کہ معصیت میں پڑنے سے انسان بچا رہے اور شریعت نے اسے بطور علاج کے ہی رکھا ہے کہ اگر انسان اپنے نفس کا میلان اور غلبہ شہوات کی طرف دیکھے اور اس کی نظر بار بار خراب ہوتی ہو تو زنا سے بچنے کیلئے دوسری شادی کر لے لیکن پہلی بیوی کے حقوق تلف نہ کرے۔تو رات سے بھی یہی ثابت ہے کہ اُس کی دلداری زیادہ کرے کیونکہ جوانی کا بہت سا حصہ اُس نے اس کے ساتھ گزارا ہوا ہوتا ہے اور ایک گہرا تعلق خاوند کا اس کے ساتھ ہوتا ہے۔پہلی بیوی کی رعایت اور دلداری یہاں تک کرنی چاہئے کہ اگر کوئی ضرورت مرد کو ازدواج ثانی کی محسوس ہو لیکن وہ دیکھتا ہے کہ دوسری بیوی کے کرنے سے اُس کی پہلی بیوی کو سخت صدمہ ہوتا ہے اور حد درجہ کی اُس کی بشکنی ہوتی ہے تو اگر وہ صبر کر سکے اور کسی معصیت میں مبتلا نہ ہوتا ہو اور نہ کسی شرعی ضرورت کا اُس سے خون ہوتا ہو تو ایسی صورت میں اگر اُن اپنی ضرورتوں کی قربانی سابقہ بیوی کی دلداری کیلئے کر دے اور ایک ہی بیوی پر اکتفا 66 کرے تو کوئی حرج نہیں اور اُسے مناسب ہے کہ دوسری شادی نہ کرے۔“ 110