عید الاضحیہ

by Other Authors

Page 8 of 15

عید الاضحیہ — Page 8

8 7 آپ نے بھلا دیا تو بے شک کروڑوں بکرے بھی آپ ذبح کرتے چلے جائیں آپ ذبح عظیم کی بات پوری کرنے والے نہیں بن سکیں گے۔ذبح عظیم تو وہی ہوتا ہے جو دلوں کا ذبح ہو رہا ہوتا ہے۔ذبح عظیم تو وہ ہوتا ہے جو انسان ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو وقف کرتا ہے اور اپنی ساری تمنائیں کسی اور کے ہاتھوں میں پکڑا دیتا ہے۔اپنے سارے حقوق اپنے ہاتھوں سے تلف کر دیتا ہے۔یہ ہے ذبح عظیم جس کی طرف حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی قربانیاں اشارہ کر رہی ہیں اور جو ذبح عظیم سب سے زیادہ شان کے ساتھ دنیا نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں دیکھا اور آج جس کا اعادہ ہوا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں۔“ 66 (خطبہ عیدالاضحیہ 17 ستمبر 1983ء از خطبات عیدین صفحه 388-387) حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز قربانی کی روح اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔دو راہوں پر چلتے ہوئے قربانی کرو گے تو یہ قربانی مجھ تک پہنچے گی۔تو جیسا کہ میں نے کہا یہ روح ہے جس کے ساتھ اللہ کے حضور قربانیاں پیش ہونی چاہئیں۔“ (خطبہ عیدالاضحیہ 21 جنوری 2005 ء از الفضل انٹرنیشنل 4 فروری 2005ء) قربانی رڈ بلا کا موجب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔"إِنَّ الصَّحَا يَا هِيَ الْمَطَايَا تُوُصِلُ إِلَى رَبِّ الْبَرَايَا وَتَمُحُو الْخَطَايَا وَتَدْ فَعُ الْبَلايَا۔هَذَا مَا بَلَغَنَا مِنْ خَيْرِ الْبَرِيَّةِ عَلَيْهِ صَلَوَاتُ اللهِ وَالْبَرَكَاتُ السَّنِيَّةُ۔قربانیاں وہی سواریاں ہیں جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں۔اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں۔یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچیں جو سب مخلوق سے بہتر ہیں اُن پر خدا تعالیٰ کا سلام اور برکتیں ہوں۔“ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔خطبہ الہامیہ از روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 45) " جس نے اپنی قربانی کی حقیقت کو معلوم کر کے قربانی ادا کی اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ ادا کی اس نے اپنی جان اور اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں کی قربانی کر دی اور اس کے لئے اجر بزرگ ہے جیسا کہ ابراہیم کے لیے اس کے رب کے نزدیک اجر تھا۔“ خطبہ الہامیہ از روحانی خزائن 16 جلد صفحہ 44) یہ گوشت اور خون جو تم نے جانور کو ذبح کر کے حاصل کیا ہے اور بہایا ہے اگر یہ تقویٰ سے خالی ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے مقصد سے خالی ہے تو اللہ تعالیٰ کو تو ان مادی چیزوں قربانی کا اجر سے کوئی سروکار نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ تو یہ ظاہری قربانی کی روح تم میں پیدا کرنا چاہتا ہے۔جب تم جانوروں کو ذبح کرو تو تمہیں یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک حکم پورا کر وانے کے لئے اس جانور کو میرے قبضہ میں کیا ہے اور میں نے اس کی گردن پر چھری پھیری ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دی ہے۔اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کی ، اس جانور کو ذبح کیا۔اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی کہ میں اس کے حکم پر عمل کرنے والا ہوا، اس قابل ہوا کہ اس پر عمل کر سکوں۔اس نے مجھے توفیق دی کہ میں اس کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں میں شامل ہوا۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب اس نیت سے قربانی کر رہے ہو گے، تقویٰ کی سید نا حضرت خلیفہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں: قربانیوں کو ہم نے شعائر اللہ قرار دیا ہے۔یعنی وہ انسان کو خدا تک پہنچاتی ہیں اور اُن کے ذریعہ سے دینی اور دنیوی بھلائی ملتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 53)