عید الاضحیہ

by Other Authors

Page 7 of 15

عید الاضحیہ — Page 7

6 5 اصل روح کی قربانی ہے۔۔۔۔اور بکروں کی قربانیاں روح کی قربانی کے لئے مثل سایوں اور آثار کے ہیں سیدنا 66 خطبہ الہامیہ از روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 68) سید نا حضرت خدیت مسیح الاول اوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں۔تم قربانیاں کرو اس یقین کے ساتھ کہ ان میں تصویری زبان کے ذریعے تمہیں 66 فرمانبرداری کی تعلیم ہے اور یہ کہ تم بھی ادنی کو اعلیٰ کے لئے قربان کرنا سیکھو۔“ (خطبات نور صفحہ 437) ی ناخذ یہ اسیح الثانی نوراللہ مرقدہ دفرماتے ہیں۔و محض قربانی کوئی چیز نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں وہ جذبہ اخلاص قدر و قیمت رکھتا ہے جو اس قربانی کے پس پشت ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص اعلیٰ درجہ کا دُنبہ تو ذبح کر دیتا ہے۔لیکن وہ قربانی میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کو مد نظر نہیں رکھتا تو اس کی یہ قربانی خدا تعالیٰ کے حضور ایک پر کاہ ( تنکا یعنی حقیر اور معمولی چیز ) کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھ سکتی۔“ ( تفسیر کبیر جلد 6 صفحه 51) سید نا خلیفہ امسح الثالث نے ایک موقعہ پر قربانی کی حقیقت یوں بیان فرمائی: پس قربانی کی اس عید کا تعلق دنبوں یا بھیڑوں یا بکریوں یا گائے یا اونٹ کی قربانی سے نہیں اس عید کا تعلق ذبح عظیم سے ہے یعنی جان کی قربانی سے نہیں خدا کی راہ میں زندگی کی قربانی سے ہے۔یہ تجربہ اور مشاہدہ ہے کہ بہت سے مواقع پر انسانوں کا جان دینا زندہ رہ کر قربانی دینے سے بہت آسان ہو جاتا ہے اس لئے جو مومن شہداء ہیں ان کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ وہ خدا کے حضور یہ خواہش پیش کریں گے کہ انہیں پھر زندہ کیا جائے اور پھر وہ خدا کی راہ میں جان کی قربانی دیں اور پھر زندہ کیا جائے اور پھر قربانی دیں۔اس میں بھی ہمیں یہی سبق دیا گیا ہے کہ خدا کی راہ میں محض جان دے دینا یہ تو کوئی چیز نہیں اصل چیز خدا کی راہ میں زندگی گزارنا ہے اور یہی ذبح عظیم ہے جس کی رو سے انسان اپنی تمام خواہشات کو چھوڑ کر اپنی رضا کو قربان کر کے خدا تعالیٰ کی رضا قبول کرتا اور اس کے پیار کے حصول کی کوشش کرتا ہے۔“ ( خطبہ عیدالاضحیہ 22 نومبر 1977ء از الفضل 2 /جنوری 1978ء) پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ آپ سب کے لئے اس عید کو اس رنگ میں مبارک کرے کہ جن قربانیوں کی روایت اس عید سے وابستہ کی گئی ہے اور قرب الہی کی جورا ہیں ان قربانیوں کے نتیجہ میں انسان پر کھولی گئی ہیں وہ راہیں اللہ تعالیٰ ہم پر بھی کھولے اور اپنے قرب کے دروازے ہمارے لئے وا کرے اور اپنی برکتوں اور رحمتوں سے ہمیں نوازے۔“ ( خطبہ 16 جنوری 1973 ء از الفضل 26 نومبر 1976ء) سید ناخلیفة المسح الرابع عیدالاضحیہ کی حکمت اور فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں اس عید میں جو ہم آج منارہے ہیں اپنی تمام زندگی خدا کے حضور پیش کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔کچھ وقت کے لئے کسی جذباتی قربانی کا معاملہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی اطاعت میں اس طرح ثابت قدم رہنا کہ اپنا کچھ بھی باقی نہ رہنا، ہر چیز کا مالک خدا کو قرار دے کر اس کی مرضی کے سامنے سرتسلیم خم کر دینا، یہ ہے وہ پیغام جو یہ عید ہمیں دیتی ہے۔“ ( خطبہ 28 ستمبر 1982 ء از خطبات عیدین صفحہ 364) پھر فرمایا: حقیقت یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تمثیلی طور پر ابراہیم قرار دیا تو واقعہ ایک عظیم الشان واقفین کی نسل پیدا کرنے کی بھی توفیق بخشی اور آج ہزار ہا لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اپنی تمناؤں کی گردنوں پر چھری پھیر دی ہے اور ذبح عظیم کا جو ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے وہ یہی ذبح عظیم ہے۔اگر ذبح عظیم کی روح کو