عید الاضحیہ — Page 12
16 15 نماز عید کا طریق تکبیرات عید کی تعداد کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق احادیث میں یوں درج ہے: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَبَّرَ فِي الْعِيُدَيْنِ فِي الْأُولَى سَبْعَاقَبْلَ الْقِرَأَةِ وَفِي الْآخِرَةِ خَمْساً قَبْلَ الْقِرَأَةِ۔(جامع ترمذی باب ما جاء في التكبير في العيدين،حدیث نمبر536) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے موقعہ پر پہلی رکعت میں ( تکبیر تحریمہ کے علاوہ سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں قرآت سے پہلے کہا کرتے تھے۔نماز عید کا طریق یہ ہے کہ پہلے دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہے اور پھر خطبہ دیا جاتا ہے۔نماز عید کی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھ کر ثناء پڑھی جاتی ہے اور پھر ثناء کے بعد اور تعوذ سے پہلے امام سات تکبیریں بلند آواز سے کہے اور مقتدی آہستہ آواز سے یہ تکبیرات کہیں۔امام اور مقتدی دونوں تکبیرات کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک اٹھا ئیں اور کھلے چھوڑ دیں سات تکبیرات کے بعد امام ہاتھ باندھ کر اعوذ اور بسم اللہ پڑھے۔اس کے بعد سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کا کوئی حصہ بالجبر پڑھ کر رکوع و سجود کی ادائیگی کے ساتھ پہلی رکعت مکمل کرے۔پھر دوسری رکعت کے لئے اٹھتے ہی پانچ تکبیریں پہلی رکعت کی تکبیرات کی طرح کہے اور پھر سورۃ فاتحہ اور قرآن کریم کا کوئی حصہ پڑھے اور رکوع و سجود کے ساتھ دوسری رکعت مکمل ہونے پر تشہد ، درود شریف اور مسنون دعاؤں کے بعد سلام پھیرے۔اس کے بعد امام خطبہ پڑھے۔جمعہ کی طرح عید کے بھی دو خطبے ہوتے ہیں۔پہلے خطبہ کے بعد امام تھوڑا سا بیٹھ کر دوسرا خطبہ پڑھ کر دعا کروادے۔اس طرح عید کی نماز مکمل ہو جائے گی۔فقہ احمدیہ حصہ عبادات صفحہ 179 ) عید کا خطبہ وہی جو جمعہ کا خطبہ ہے۔خطبہ کی عبارت مندرجہ ذیل ہے۔اَشْهَدُ اَنْ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا الصِّرَاطَ المُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اس کے بعد حسب ضرورت وعظ ونصیحت کی جاتی ہے۔خطبه ثانیه الْحَمْدُ لِلَّهِ نَحْمَدُهُ وَ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَ نُؤْمِنُ بِهِ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ وَ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَعْمَالِنَا مَنْ يَّهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَ مَنْ يُضْلِلْهُ فَلَاهَادِيَ لَهُ وَنَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَنَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ - عِبَادَ اللهِ رَحِمَكُمُ اللهُ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبِي وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغَى يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ - اُذْكُرُوا اللهَ يَذْكُرُكُمْ وَادْعُوهُ يَسْتَجِبْ لَكُمْ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ اس کے بعد امام دعا کروائے۔