عید الاضحیہ

by Other Authors

Page 11 of 15

عید الاضحیہ — Page 11

14 13 جاتیں۔پس آپ بھی اس کو پیش نظر رکھیں اور تکبیرات کہا کریں۔یہ چند دن تکبیرات کے ہیں اور اپنے گھر کو تکبیرات کی آواز سے سجائیں اور بچوں کو عادت ڈالیں اس خوبصورت آواز کو سننے کی یہاں تک کہ ان کے دل پر یہ آواز جاگزیں ہو جائے اور کبھی بھی نہ بھولے اور سب سے اچھا نغمہ ان کی روح میں جو سرایت کرے وہ انہیں تکبیرات کا نغمہ ہو۔اللهُ أَكْبَرُ اللهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَالله اَكْبَرُ الله اَكْبَرُ وَلِلهِ الْحَمْدُ۔66 خطبہ 28 / مارچ 1999ء از خطبات عیدین صفحه 651-652) اسی طرح روایت میں آتا ہے کہ ایام تشریق میں حضرت عبد اللہ ابن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما بازار میں نکل جاتے اور تکبیرات پڑھتے اور باقی لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیرات (جامع صحیح بخاری کتاب العیدین، باب فضل العمل في ايام التشريق،حدیث نمبر 968) تکبیرات کے بارہ میں سیدنا مصلح موعود نوراللہ مرقدہ فرماتے ہیں: اصل غرض تکبیر و تحمید ہے خواہ کس طرح ہو اور اس کے متعلق دستور تھا کہ جب مسلمانوں کی جماعتیں ایک دوسرے سے ملتی تھیں تو تکبیر میں کہتی تھیں۔مسلمان جب ایک دوسرے کو دیکھتے تو تکبیر کہتے۔اٹھتے بیٹھتے تکبیر کہتے کام میں لگتے تو تکبیر کہتے۔لیکن ہمارے ملک میں جو یہ رائج ہے کہ محض نماز کے بعد کہتے ہیں اس خاص صورت میں کوئی ثابت نہیں۔“ خطبہ عیدالاضحیہ 5 راگست 1922 بمقام قادیان از الفضل قادیان 17 /اگست 1922) عیدالاضحی کی نماز عید الفطر کی بجائے قربانی کرنے کی وجہ سے جلد پڑھی جاتی ہے تا کہ وقت پر قربانی کی جاسکے۔دو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت تھی اور آپ کا یہ طریق تھا کہ اس عید کے موقعہ پر آپ نماز جلدی پڑھایا کرتے تھے اور خطبہ بھی مختصر فرماتے تھے۔تا کہ جن لوگوں نے قربانی کرنی ہو وہ نماز سے فارغ ہو کر قربانی کر سکیں۔“ ( خطبہ عیدالاضحیہ 30 مئی 1928 از الفضل قادیان 15 جون 1928ء) عیدین کے موقع پر عید کی دورکعت نماز کسی کھلے میدان یا عید گاہ میں زوال سے پہلے پڑھی جاتی ہے۔حسب ضرورت عید کی نماز جامع مسجد میں بھی ادا کی جاسکتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ: ایک عید کے موقع پر بارش تھی تو آنحضرت ﷺ نے عید کی نماز مسجد میں پڑھائی۔(ابو داود كتاب الصلوة باب يصلى بالناس في المسجد اذا كان يوم مطر) عید کی نما ز سنت ہے۔رسول کریم سے ثابت ہے کہ عید کی نماز با جماعت ہی پڑھی جاسکتی ہے اکیلے جائز نہیں۔اگر کوئی شخص نماز عید میں تاخیر سے شامل ہو تو وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد امام کے ساتھ نہ پڑھی جا سکنے والی نماز کو اسی طرح مکمل کرے گا جس طرح اس نے اس حصہ نماز کو امام کی اقتداء میں ادا کرنا تھا۔(فیصلہ مجلس افتاء)